ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 287 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 287

میں نے کہا کہ میں اس اصول کو درست تسلیم کرتا ہوں۔اس پر رئیس صاحب نے کہا کہ پھر اسلام صحیح مذہب نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کا آغاز صرف تیرہ سو سال سے ہے۔میں نے کہا نہیں یہ تو درست نہیں۔اسلام سب سے پرانا مذہب ہے کیونکہ قرآن مجید میں تو لکھا ہے (الانعام:۹۱) اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام اہل اسلام کو حکم ہے کہ تمام انبیاء کی اقتدا کریں۔پھر اسلام تیرہ سو سال سے کیوں ہوا؟ پھر میں نے پوچھا کہ آپ یہ تو فرمائیں کہ رام چندر جی کس کی پرستش کرتے تھے۔اس نے کہا ویشنو کی۔ویشنو کس کی؟ کہا شو جی کی۔میں نے کہا شو جی کس کی کرتے تھے؟ کہا ردّر کی۔میں نے کہا وہ کس کی پرستش کرتے تھے؟ کہا برہما جی کی۔میں نے پوچھا وہ کس کی؟ تو رئیس مذکور کے منہ سے بے اختیار یہی جواب نکلا کہ کیول ایشر کی۔میں نے کہا بس یہی تو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُکے معنے ہیں کہ کیول ایشر ہی کی عبادت کی جاوے اور یہی حقیقی اسلام ہے۔اس پر رئیس مذکور نے گھبرا کر کہا کہ پھر برہما جی کسی اور کی عبادت کرتے ہوں گے۔میں نے کہا کہ سلسلہ سوالات بالآخر پھر کیول ایشر پر جا کر ختم ہو جائے گا اور یہی اسلام ہے۔پھر آپ نے تاکیدًا فرمایا کہ انسان کو ایسے کاموں سے بچنا چاہئے جن کا نتیجہ یہ ہو کہ وہ خدا سے دور کر دیں۔اصلاح کا عجب طریق عید کے دوسرے دن شام کے کھانے کے وقت میں بھی حاضر تھا کھانا آپ کے سامنے رکھا گیا۔شوربے(یہ شوربہ باہر تیار ہوا تھا)میں مرچ کسی قدر زیادہ تھی۔آپ کے منہ میں چونکہ زخم ہے وہ اور بھی تیز اثر دکھاتی تھی۔آپ بجائے اس کے کہ آپ ہدایت کرتے یا ناراض ہو کر یہ کہتے کہ کیوں اتنی تیز مرچ ڈالی گئی۔آپ نے مہتمم صاحب کو فرمایا کہ اس کو چکھو۔اور پھر فرمایا کہ میری بیوی کو چکھاؤ۔اس حکم کے دوسرے الفاظ میں یہ معنے تھے کہ وہ اپنی غلطی کو سمجھ لیں اور آئندہ اصلاح ہو۔پھر آپ کے سامنے وہ سالن پیش کیا گیا جو آپ کی بیوی صاحبہ نے تیار کیا تھا۔اس میں نمک بہت زیادہ تھا۔آپ نے