ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 286 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 286

دے دیا۔یہ دیکھ میرے ہاتھوں میں سونے کا ُچوڑا پڑا ہوا ہے۔وہ چور بہت ہی نادم ہوا۔میری غرض اس واقعہ سے یہ ہے کہ انسان جس رنگ میں ناجائز طور سے کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے اسی رنگ میں اسے ناکامی ہوتی ہے۔فرمایا۔ہر ایک انسان کے اندر ایک قوت ہے جو اسے برائی کے ارتکاب پر ملامت کرتی ہے۔جو برا فعل انسان کرتا ہے اگر کسی دوسرے شخص کو اسی فعل کا ارتکاب کرتے دیکھے تو اسے بہت برا سمجھتا ہے۔مثلاً ایک زانی یا چور خود ایک فعل کرتا ہے لیکن اگر کوئی شخص اس کے یا اس کے متعلقین کے ساتھ ایسا سلوک کرے تو اسے سخت ناپسند ہو گا۔یہی کراہت اور ناپسندیدگی اس پر حجت ملزمہ ہے کہ وہ بدی کرتا ہے۔ہم نے ایک بڑے چور کو پوچھا کہ تم جو بڑی چوریاں کرتے ہو کتنے آدمی ہوتے ہو؟ اس نے بتایا کہ ایک نقب لگاتا ہے ایک اس پر پہرہ دیتا ہے اور باقی شرکاء فلاں فلاں کام کرتے ہیں۔غرض ساری تفصیل اس نے بتائی اور آخر کہا کہ ایک سنار بھی راز دار ہوتا ہے جو مال کو فوراً گلا دیتا ہے اس کا حصہ ۲۵ فیصدی ہوتا ہے۔مجھے چونکہ اس پر اتمام حجت مقصود تھا۔میں نے کہا اگر وہ زیادہ رکھ لے۔تو اس نے ایک گندی گالی دے کر کہا کہ ایسے بے ایمان سے ہم خوب سمجھیں اور اسے علیحدہ کر دیں۔میں نے کہا کہ کیوں؟ اس نے جواب دیا کہ وہ ہماری محنت کی کمائی میں سے چوری کرتا ہے۔میں نے کہا کہ پھر تم جو کسی کا محنت سے کمایا ہوا مال لاتے ہو اس پر تمہارا کیا حق ہوتا ہے؟ جس پر اسے چپ ہونا پڑا۔غرض اگر اس طرح پر انسان اپنے افعال کے ارتکاب کے وقت غور کرے تو وہ بدیوں سے ایک حد تک بچ جاوے۔فرمایا۔اسلام ہی ہے جو اللہ تعالیٰ سے قرب حاصل کرنے کے صحیح طریقے بتاتا ہے۔میں ایک مرتبہ ایک رئیس کے پاس ملازم تھا۔رئیس نے ایک روز کہا کہ مولوی صاحب یہ مذاہب کے جھگڑے ہمیشہ سے چل رہے ہیں مگر ان کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ایک ایسا معیار ہونا چاہئے جس پر تمام مذاہب کو پر کھ لیا جاوے اور دیکھا جاوے کہ کون سا مذہب اس معیار پر صحیح اترتا ہے؟ میں نے کہا بہت بہتر ہے آپ ہی کوئی معیار کریں۔اس نے کہا کہ میرے نزدیک جو مذہب سب سے زیادہ قدیم ہو وہ صحیح ہو سکتا ہے۔