ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 282
ان تینوں میں جو شوم مانا جاتا ہے اس کی ایک وجہ تو ظاہر ہے کہ گھوڑا مثلاً بدلگام ہو، سرکش اور شوخ ہو۔ایسا ہی مکان کے متعلق ایک شوم یہ ہوتا ہے کہ وہ تنگ و تار ہو، حفظ صحت کے خلاف ہو۔اور عورت کے متعلق یہ کہ وہ بدزبان ہو، پھوہڑ ہو۔لیکن مجھے اللہ تعالیٰ نے اس سے بڑھ کر اس کے متعلق اس کی حقیقت بتائی ہے اور وہ یہ ہے کہ بعض مکانات ایسے ہوتے ہیں جہاں غفلت پیدا ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ سے دوری پیدا ہوتی ہے۔اس کی بہت سی مثالیں ہیں اور واقعات نے اس کی تصدیق کی ہے۔اس کا علاج ایسے مکان کو چھوڑ دینا اور اس نشست کو بدل دینا ہوتا ہے۔اس قسم کی غفلت پیدا کرنے والے مکانات میں جب بدیاں ترقی کر جاتی ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوتا ہے اور آباد مکان ویران ہو جاتے ہیں۔یہی و جہ تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کو فرمایا کہ جب عادیوں کی زمین سے گزرو تو بھاگتے ہوئے اور ڈرتے ہوئے نکل جاؤ۔یہ مکانوں کا شوم ہوتا ہے۔اور عورتوں کے متعلق ان کے بانجھ یا بدزبان وغیرہ ہونے کے سوا بعض وقت ایسی حالت ہوتی ہے کہ وہ ذریت طیبہ نہ ہونے کے باعث اس میں شیطانی آمیزش ہوتی ہے۔اس کے تعلق سے انسان کو ٹھوکر لگتی ہے اور وہ مختلف راہوں سے خدا سے دور لے جاتی ہے اور نیکیوں کو چھوڑا دیتی ہے۔اور مومن خدا کے فضل سے شوم کو دور بھی کر سکتا ہے۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے مدینہ طیبہ کا شوم جو وبائی تپ کے رنگ میں تھا، جاتارہا۔اللہ تعالیٰ سے وعدہ کرنے میں بڑی احتیاط چاہئے! ۲۶؍ نومبر ۱۹۱۰ء کو خوا جہ کمال الدین صاحب اور دوسرے احباب حاضر تھے۔میں بھی سعادت اندوز تھا۔خوا جہ صاحب سے برادرم خوا جہ جمال الدین صاحب کے متعلق استفسار کیا۔خوا جہ صاحب نے عرض کیا کہ انہوں نے ایک سال کی رخصت کا انتظام کیا ہے۔اور یہ رخصت وہ صرف اس لئے لیتے ہیں کہ انہوں نے عہد کر لیا ہے کہ آپ سے قرآن پڑھیں۔فرمایا۔اللہ تعالیٰ سے عہد کرنے میں بڑی احتیاط چاہئے! میں اس کو تو دل سے چاہتا ہوں کہ