ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 283 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 283

لوگ قرآن پڑھیں۔اور قرآن پڑھانا میرے لئے بڑی ہی خوشی کا ذریعہ اور میرے لئے جنت ہے۔لیکن جب کوئی ایسا عہد کرتا ہے تو میں ڈر جاتا ہوں۔ان کو لکھو کہ وہاں نبی بخش نام ایک نوجوان تھا وہ اسے جانتے ہیں۔ایک مرتبہ وہ تپ دق میں بیمار ہوا۔میں نے اسے کہا کہ تم اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی نذر مان لو تم اچھے ہو جاؤ گے۔اس نے کہا میں نے نذر مانی ہے کہ قرآن کریم کی خدمت کروں گا۔آخر وہ اچھا تو ہو گیا اور اس نے قرآن کریم پڑھا بھی مگر خدمت کی توفیق نہ ملی بلکہ ہمارا مخالف ہو گیا۔ایسے عہود میں خدا تعالیٰ سے پہلے بہت استغفار کرنا چاہئے کہ وہ اخلاص عطا کرے اور پھر اس سے دعائیں کی جائیں کہ وہ توفیق دے۔خدا تعالیٰ سے عہد کر کے اگر پورا نہ کیا جاوے تو انجام نفاق پر ہو جاتا ہے۔اس لئے ایسا ارادہ مبارک ہے اور میرے جیسا آدمی تو اس کی بڑی قدر کرتا ہے مگر اس کو لکھو کہ وہ بہت استغفار کریں اور دعاؤں سے کام لیں۔انسان اپنی طاقت سے کچھ نہیں کر سکتا۔ساری توفیقیں اور طاقتیں اللہ تعالیٰ ہی عطا کرتا ہے اور وہ دعاؤں سے ملتی ہیں۔تبلیغ اسلام کا جوش پھر خواجہ کمال الدین صاحب جب پہلی مرتبہ عیادت کے لئے آئے تو انہوں نے ذکر کیا کہ علی گڑھ میں جو لیکچروں کا انتظام ہوا ہے اس میں پہلا لیکچر میرا ہے۔صاحبزادہ آفتاب احمد خان صاحب کا تار آیا تھا مگر حضور کی ناسازی طبع کے باعث میں نے انہیں اطلاع دی کہ میں نہیں آ سکتا۔اس پر انہوں نے بذریعہ تار حضور کی عیادت کی ہے اور مجھے روک دیا کہ جب تک حضرت کی طبیعت درست نہ ہو نہ آؤ۔فرمایا۔نہیں میری علالت اس تبلیغ کے کام میں روک نہ ہو۔وہاں ضرور جانا چاہئے۔انہیں لکھ دو۔میں اپنے وجود کو کسی طرح پر بھی اسلام کے کام میں روک نہیں بنانا چاہتا اور خدا کی پناہ چاہتا ہوں۔میری آرزو تو یہ ہے کہ میں اسلام ہی کی خدمت میں زندگی پوری کروں۔تم ضرور جاؤ بلکہ میں چاہتا ہوں کہ تیمور بھی تیاری کرے اور مضمون لکھ کر مجھے سنائے۔اگرچہ میرا دل چاہتا ہے کہ وہ بدوں تیاری لیکچر دے۔اس طرح پر خدا تعالیٰ کے خاص فضل کی مدد ملتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔اور اس کے لئے ضرورت