ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 260
کلام امیر فرمایا۔اسلام میں ہزاروں تصانیف ہوئی ہیں۔اکسیر فی اصول التفسیر میں لکھا ہے کہ تیرہ سو تفسیر قرآن مجید ہے۔یہ تو اس کے علم کی بات ہے۔ممکن بلکہ اغلب ہے کہ اس سے زیادہ بھی لکھی گئی ہوں۔جب تفاسیر کا یہ حال ہے تواو ر علوم کی کتب کا کیا حساب کیا جاوے۔مگر مسلمانوں نے ان سے کہاں تک فائدہ اٹھایا جو مجھے بار بار کہتے ہیں کہ تم تصنیف کیوں نہیں کرتے۔وہ اس پر غور کریں۔مجھ سے جو سوال کئے جاتے ہیں ۹۵ فیصدی ان میں سے ایسے ہوتے ہیں جن کے جواب میں اپنی کتابوں میں دے چکا ہوں۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ لوگ کتابیں کم دیکھتے ہیں۔مجھے جہاں تک خدا نے توفیق دی ہے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ساری دنیا میں ایک مذہب نہیں ہو سکتا۔اللہ کی اس بے نظیر کتاب ( قرآن مجید) کے پہچانے میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کافی نمونہ ہے۔آپ کے کمالات کا احاطہ اس قدر وسیع ہے کہ اگر میں ساری عمر بھی آپ کے کمالات کے بیان کرنے کی راہ پائوں تو ایک شمہ نہ ادا ہو سکے۔ایک ایک بات آپ کی، ایک ایک حرکت آپ کی، ختم نبوت کی دلیل ہے۔دعائوں میں، کاموں میں، تعلقات میں، اقوال میں، افعال میں سو سو اعجازی نشان پائے جاتے ہیں۔یہ شعر جو کہا گیا ہے۔؎ کرشمہ دامن دل مے کشد کہ جا اینجا است میرے ہی محبوب کے لئے ہے۔اسلام جیسا کوئی مذہب ، قرآن جیسی کوئی کتاب اور نبی کریم محمد ﷺ جیسا کوئی رسول نہیں۔آپ کی کامیابی کی نظیر نہیں ملتی۔کوئی تاریخ کسی ولی کی، کسی نبی کی، کسی فلسفی کی، کسی حاکم کی، کسی شہنشاہ کی ایسی کامیابی نہیں دکھاتی۔پھر آپ پر کتاب وہ اُتری کہ لوگ کہتے ہیں حوض کوثر کا پانی پی کر کوئی پیا سا نہیں ہو گا۔مگر میں لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ اللّٰہ پورے یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ اس کتاب کو دیکھ کر مجھے کسی