ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 261
کتاب کی ضرورت نہیں۔رافضی کہتا ہے یہ قول عمر کا ہے کہ حَسْبُنَا کِتَابُ اللّٰہ۔مگر کیا قرآن مجید میں نہیں۔ (العنکبوت:۵۲)۔غرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ سلم جیسا کوئی کامیاب انسان نظر نہیں آتا۔مگر ساری دنیا کو آپ نے بھی مسلمان نہ بنایا۔پھر ہم کیوں پریشان ہوں کہ فلاں مسئلہ کی پوری تحقیق نہیں۔سوالوں کو سن کر گھبرا جانا اور ایسی پریشانی دکھانا مومن کو جائز نہیں۔صحابہ کے پاس کتنی کتابیں تھیں جن کی مدد سے وہ مباحثہ کیا کرتے۔میں نے( ستر ۷۰برس سے میری عمر متجاوز ہے )کبھی ایک لمحہ کے لئے بھی اپنے علم پر بھروسہ نہیں کیا بلکہ ہمیشہ دعا سے کام لیا۔اور خدا کے فضل سے جیتا ہوں۔ایک دفعہ ایک امیر کی محفل میں مجھے بلایا گیا اور وہاں چند حکماء بیٹھے تھے۔اور انہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ اذان کے بعد کیا دعا مانگنی چاہیے۔جب میں نے دعا سنائی تو چونکہ حدیث میں وَارْزُقْنَا شَفَاعَتَہٗ نہیں ہے اس لئے میں نے وہ لفظ نہ پڑھے۔تو انہوں نے از راہ شرارت کہا کہ یہ شفاعت کا منکر ہے اور ان علماء نے دلائل الخیرات اپنے پاس رکھی تھی جس میں وَارْزُقْنَا شَفَاعَتَہٗ لکھا تھا۔وہ موقعہ ایسا بھی نہیں تھا کہ دلائل الخیرات کا انکار کر دیا جاوے۔آخر میں میں نے دعا کی اور اس کتاب کو اس عالم کے ہاتھ سے لے کر کھولا تو خدا کی قدرت سے وہ صفحہ نکلا جس پر دعا۔۔۔۔۔۔بعد اذان لکھی تھی مگر اس میں وَارْزُقْنَا شَفَاعَتَہٗ بالکل نہیں تھا اور میں اسے نشان سمجھتا ہوں جیسا کہ روایت میں ہے کہ ایک یہودی لڑکے کو پڑھاتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نام کاٹ دیتا تھا اور وہ پھر اُبھر آتا۔پس میں اُٹھا اور خوب زور سے کہا کہ دیکھو تمہار ی دلائل الخیرات میں بھی یہ فقرہ نہیں۔جس پر وہ سب نادم ہوئے۔پھر مجھ سے سوال ہوا کہ یَا شَیْخ عَبْدَالْقَادِرِ شَیْئًا لِلّٰہ کے متعلق آپ کا ارشاد ہے؟ یہ ان کی دوسری شرارت تھی۔میں نے کہا پہلے تم یہ بتائو کہ آپ یقین کے ساتھ عبدالقادر جیلانی کو جنتی سمجھتے ہو۔وہ بولے نہیں۔کیونکہ عشرہ مبشرہ کے سوا ہم کسی کے جنت میں ہونے کا حکم نہیں دے سکتے۔تب میں نے کہا کہ دیکھو یہ تو عبدالقادر جیلانی کو جنتی بھی نہیں سمجھتے اور آپ مجھ سے یا شیخ کے جواز کا مسئلہ پوچھتے ہو۔