ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 249
حدیث ۲ کی کتابیں صحیح صحیح چھپوائی جاویں۔ان کی اشاعت ہو اس کی تعلیم پر خرچ ہو۔ائمہ۳ مساجد نیک بہم پہنچائے جاویں۔موذن۴ بہت صالح ہوں اور باعمل۵ واعظ ہوں اور متکلم ہوں۔۔جہاد میں جو خرچ ہو وہ اس مدّ سے ہو۔حاجی بنا کر روانہ کریں۔بعض علماء کے نزدیک راہ کی عمارتیں بھی اس میں شامل ہیں۔اگر کسی کو توفیق ہو تو ریلوے سٹیشن پر مسجد یں بنوائے تاکہ مسافروں کو نماز پڑھنے میں دقت نہ ہو۔ایک اور بحث اس کے متعلق ہے کہ ان آٹھوں میں سے کسی ایک کو زکوٰۃدے دی جاوے تو بھی جائز ہے یا نہیں یا ہر ایک کو ضرور دی جاوے اور پھر ہر ایک مدّ کے کم ازکم تین آدمی ہوں کیونکہ جمع کا صیغہ ہے یا خواہ ایک ہی ہو پھرسب کو ایک وقت میں دی جاوے۔یہ بات اختلافی مسائل میں سے ہے اور ہم اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں دیکھتے۔مسلمانوں نے تو زکوٰۃ کو اد ا کرنا چھوڑ رکھا ہے اور بحث مصارف کے متعلق چھیڑ رکھی ہے۔حضرت ابن عباس سے کسی نے پوچھا کہ اگر مکھی بلاوجہ ماری جاوے تو اس کا کیا کفارہ ہے۔آپ نے سوچ سوچ کر کہا تم کوفہ کے رہنے والے ہو۔اس نے کہا ہاں۔کسی نے عرض کیا۔یہ سوال جناب نے کیوں فرمایا اور کس طرح سے معلوم کر لیا۔فرمایا۔ایسے سوال انہی لوگوں سے اُمید ہو سکتی ہے۔جب امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا تب مجھ سے یہ مسئلہ نہ پوچھا اور اب مکھی کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔اللہ رحم کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔