ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 248
بسم اللّٰہ الرَّحمٰن الرَّحِیْم مصارف زکوٰۃ ۔محتاج جس کے پاس ضرورت صحیحہ کے لئے کچھ نہ ہو۔مثلاً کسی نے ریل کا ٹکٹ لینا ہے مگر اتفاق سے اس کے پاس چند پیسے کم ہیں اور وہ اس کے بغیر جہاں جانا ہے جا نہیں سکتا۔۔جو کما تو سکتا ہے مگر اس کے پاس سامان نہیں مثلاً کوئی جلد ساز ہے اور وہ سب اسباب نہیں رکھتا جس سے اپنی دکان کھول سکے۔۔صدقات کے انتظام ووصولی کے لئے جو محکمہ ہو اس کے ملا زموں کی تنخواہ۔۔اس مدّ کو بعض علماء نے غلطی سے اُڑا دیا ہے حالانکہ یہ بہت ضروری ہے مثلاً کوئی آریہ یا عیسائی تحقیق دین کے لئے آتا ہے اب اس کے لئے مکان خوراک و غیرہ کی ضرورت ہے۔( یا کوئی نو مسلم ہے ابھی وجہ معاش کے لئے کچھ مشکلات ہیں ) اسی مد سے خرچ کیا جاوے گا۔۔غلاموں کو آزاد کرنے کے لئے کوئی مذہب سو ائے اسلام کے نہیں جس نے غلاموں کی آزادی کے لئے باضابطہ طور پر ایک حصہ رکھا ہو۔میں نے اب روپیہ اس مدّ کے لئے بھیجا ہے اور اس آیت پر عمل کیا ہے۔۔اس کا ترجمہ قرض دار غلط ہے ان لوگوں سے مراد ہے جن پر کوئی تاوان پڑ گیا ہو مثلاً کسی نیک و شریف کی ضمانت دی تھی وہ بھرنی پڑ گئی یا کسی پر جرمانہ عدالت میں ہو گیا اور وہ اس کی ادا کے بغیر قید ہو جاوے گا۔۔اور دینی کاموں میں جو امام کی مصلحت کے مطابق ہوں۔میر ے ذوق میں تو قرآن۱ نہایت صحیح و خوشخط اعلیٰ عمدہ کاغذ پر چھپوائے جائیں۔قرآن شریف کا ایک مدرسہ ہو جس میں نابینا بالخصوص آکرقرآن مجید یاد کریں۔