ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 24 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 24

بیعت کی ہے یہ تاکید اور نصیحت کرتا ہوں اور خصوصاً جماعت کے اس حِصّہ کو جو بنگال میں رہتے ہیں کہ وہ ایسے تمام مفسد لوگوں کی صحبت سے اجتناب کریں۔بلکہ جس شخص کے خیالات میں کچھ بھی بغاوت اور فساد کی بُو آتی ہو اس سے قطع تعلق کریں اور حتی الوسع ایسے مفسد لوگوں کے حالات کو گورنمنٹ کے نوٹس میں لانے کی کوشش کریں اور جہاں تک ہو اس گورنمنٹ کی خدمت کو اپنی عین سعادت سمجھیں۔ایک اور امر بھی اس جگہ ذکر کرنے کے قابل ہے۔آج کل بہت سے اخبارات نے یہ رویہ اختیار کر رکھا ہے کہ وہ باغیانہ یا مفسدانہ خیالات کو پھیلاتے اور پبلک کو گورنمنٹ یا اس کے یوروپین افسروں کے خلاف اکساتے رہتے ہیں۔میں اپنی جماعت کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ایسے اخباروں کو ہرگز نہ خریدیں اور نہ پڑھیں۔اور نہ ہی ایسے لوگوں کے ساتھ جو اس قسم کے جرائم کے بدلے سزایاب ہوتے ہیں کسی قسم کی ہمدردی کا کوئی اظہار کرنا چاہیے کیونکہ ایسی ہمدردی دراصل ایک قسم کا ظلم ہے۔جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ مفسدانہ خیالات کے پھیلانے کا جرم کوئی بڑا جرم نہیں وہ سخت غلطی کرتے ہیں۔گورنمنٹ کے خلاف لوگوں کو اکسانے اور مفسدانہ خیالات کی اشاعت کرنا نہ صرف گورنمنٹ کے خلاف ہی کارروائی ہے بلکہ اس کا بُرا اثر عام طور پر ملک کے امن پر پڑتا ہے اور جو لوگ ایسے مفسدانہ خیالات کو پھیلاتے ہیں وہ ملک کے ساتھ بھلائی نہیں کرتے بلکہ وہ دراصل اپنے ہم وطنوں سے دشمنی کرتے ہیں۔پھر یاد رکھو کہ بعض سوسائٹیاں قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف ہیں۔قرآن میں ہے۔۱؎ (المجادلۃ :۱۱) اور فرمایا ہے۔۲؎ (المجادلۃ :۱۰)۔۱؎ ترجمہ۔بات یہ ہے کہ بعض مشورے شیطانی ہوتے ہیں۔۲؎ ترجمہ۔اے مومنو مشورہ کرو بھی تو کسی گناہ، بغاوت ، رسول کی نافرمانی پر نہ کروبلکہ حقیقی نیکی اور تقویٰ پر کرو۔