ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 23
بغاوت کی بُو آتی ہے بلکہ مجھے شک ہوتا ہے کہ کسی وقت باغیانہ رنگ ان کی طبائع میں پیدا ہوجائے گا۔اس لئے میں اپنی جماعت کے لوگوں کو جو مختلف مقامات پنجاب اور ہندوستان میں موجود ہیں جو بفضلہ تعالیٰ کئی لاکھ تک ان کا شمار پہنچ گیا ہے نہایت تاکید سے نصیحت کرتا ہوں کہ وہ میری اس تعلیم کو خوب یاد رکھیں جو قریباً چھبیس ۲۶برس سے تقریری اور تحریری طور پر ان کے ذہن نشین کرتا آیا ہوں۔یعنی یہ کہ اس گورنمنٹ انگریزی کی پوری اطاعت کریں کیونکہ وہ ہماری محسن گورنمنٹ ہے۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ ۷۰۸) اور پھر اسی اشتہار میں آگے چل کر یوں تحریر فرمایا تھا۔’’ سو یاد رکھو اور خوب یاد رکھو کہ ایسا شخص میری جماعت میں داخل نہیں رہ سکتا جو اس گورنمنٹ کے مقابلہ پر کوئی باغیانہ خیال دل میں رکھے اور میرے نزدیک یہ سخت بد ذاتی ہے کہ جس گورنمنٹ کے ذریعہ سے ہم ظالموں کے پنجے سے بچائے جاتے ہیں اور اس کے زیر سایہ ہماری جماعت ترقی کررہی ہے۔اس کے احسان کے ہم شکر گذار نہ ہوں۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ ۷۰۹) اس تعلیم کے ہوتے ہوئے مجھے ضرورت نہ تھی کہ میں کچھ لکھتا مگر اس وقت بعض اور واقعات ایسے پیش آگئے ہیں کہ حضرت امام کی ہی تعلیم کی یاددہانی میں ضروری سمجھتا ہوں۔اس وقت بنگال میں اس بغاوت نے جس کے متعلق حضرت امامؑ نے فکر ظاہر کیا تھا بمب سازی کا خطرناک رنگ اختیار کیا ہے اور بعض شریر اور مفسد لوگوں نے بعض جوشیلے مگر کم عقل نوجوانوں کو ساتھ ملا کر ملک میں بدامنی اور بدعملی پھیلانی چاہی ہے۔مگر خوش قسمتی سے اس باخبر گورنمنٹ نے وقت پر اطلاع پاکر مفسدوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ان مفسد لوگوں کی کارروائیوں کو ہم سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ یہ جماعت جس کے امامؑ نے گورنمنٹ کے مقابلہ پر کسی باغیانہ رنگ اورخیال کے دل میں جگہ دینے کو سخت ترین بدذاتی قرار دیا ہے بلکہ ایسے شخص کو جماعت سے خارج کیا ہے تمام مفسدین کی کارروائیوں کو اسی طرح نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔پھر بھی میں اپنی تمام جماعت کو جس نے میرے ہاتھ پر