ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 25 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 25

یہ صریح احکامِ قرآن کریم ہیں۔پس ہر ایک مسلمان کو ان صریح احکام کا پابند ہونا چاہیے۔نیز یاد رکھو کہ ہمارے نبی کریمؐ جو ہمارے حقیقی مطاع و مقتدا ہیں صلی اللہ علیہ وسلم۔آپ نے عملی طور پر مختلف گورنمنٹوں میں رہ کر اورصحابہ کرامؓ نے مکہ معظمہ کے بے قانون شہر و ملک میں کیسے تیرہ برس بسر کئے کہ عقل حیران ہوتی ہے۔اور جب دیکھا کہ صحابہ کرامؓ پر طاقت سے زیادہ تکالیف پڑتی اور بڑھتی جاتی ہیں اور ایذائیں ناقابل برداشت ہیں تو آپؐ نے صحابہ کرامؓ کو ارشاد فرمایا کہ ملک حبشہ میں جہاں کا بادشاہ مسیحی تھا ہجرت کردو۔اس میں ایک مخفی راز یہ بھی تھا کہ میری قوم کو کسی نہ کسی وقت عیسائی سلاطین کے ماتحت رہنا پڑے گا۔اس وقت مسیحی سلطنت کے ماتحت رہیں جس طرح صحابہ کرام حبش کے مسیحی بادشاہ کے ماتحت رہے۔پس ہمارے اس سلطنت کے ماتحت رہنے کا نمونہ صحابہ کرام موجود ہیں جس طرح وہ حبشہ میں رہے اسی طرح تم ہندوستان میں رہو۔یہ بات ہمیشہ یاد رکھوکہ ہمارے امامؑ صاحب کس طرح بلا طمع اور غرض کے اپنی اسّی کتابوں میں ہمیں تعلیم کرگئے ہیں۔اس کی خلاف ورزی ہرگز مت کرو۔اتباع قرآن و اتباع نبی کریم و اتباع صحابہ کرامؓ کو نہ چھوڑو۔نور الدین (البدر جلد ۷ نمبر۳۵ مورخہ ۱۷؍ ستمبر۱۹۰۸ء صفحہ۱۰،۱۱) عورتوں کی اصلاح کس طرح ہو سکتی ہے ایک صاحب کا اپنی زوجہ کی نسبت شکوہ تھا۔فرمایا۔یہ ایک تجربہ شدہ بات ہے کہ جب کسی عورت کے واسطے بہت استغفار اللہ کے حضور میں کی جاوے تو اس کی اصلاح ہو جاتی ہے۔عورتوں کی کمزوریوں میں رحم کرنا چاہیے کیونکہ ان کو حصول علم اور وعظ کے سننے اور تعلیم پانے کے وا سطے وہ موقع نہیں جو مردوں کے واسطے ہو سکتا ہے۔پس وہ کس طرح اپنے علم و عقل میں مردوں کے برابر ہو جاویں۔مردوں کو پہلے ہی سے یہ امید نہیں باندھ لینی چاہیے کہ