ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 232 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 232

جب اُسے ہوش آیا اور اپنا حال معلوم ہواتو بہت شرمندہ ہو کر کہیں روپوش ہو گیا۔ایک دفعہ میں نے (حضرت خلیفۃ المسیح نے )حضرت مرزا صاحب( مسیح موعود ) سے دریافت کیا تھا کہ ملامتی فرقہ کے متعلق حضور کا خیال کیا ہے؟ فرمایا۔ہمارے فرقہ احمدیہ سے بڑھ کر ملامتی کون ہے جہاں بیعت کی سب اپنے بیگانے ہو گئے اور سب ملامت کرنے لگے۔ا صل ملامتی فرقہ یہی ہے جو خد اتعالیٰ کی خاطر دکھ اٹھاتا ہے۔تکلف کے ساتھ ملامتی بننے کے کیا معنے۔جو سچے دل سے خدا کی طرف جھکتا ہے وہ تو خود ہی ملامتی بن جاتا ہے۔یہ طریق جو ان ملامتیوں نے اختیار کیا ہے یہ غلطی ہے۔آریائوں کا شکریہ فرمایا۔آریہ بھی اسلام کا کام کر رہے ہیں۔جس قدر بت شکنی انہوں نے اس زمانہ میں کی ہے ہمارے مولوی لوگ کہاں کر سکتے تھے۔ان میں اتنی ہمت کہاں ہے۔آریوں نے استیصال بت پرستی کاکیا۔الہام الٰہی کے قائل ہیں۔کتاب الٰہی کے وجود کے قائل ہیں۔(ماخوذ از سفر ملتان نمبر ۳۔البدر جلد ۹ نمبر۴۳ مورخہ ۱۸؍اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۴) آنحضرت ؐ کے طفیل عرب میں دور ہونے والی برائیاں فرمایا۔جب اس بات کا خیال کیا جاتا ہے کہ دنیا میں خصوصاً عرب میں نبی کریمﷺ کی طفیل کس قدر سلامتیاں پھیلیں تو بے اختیار اُن کے لئے سلامتی کی دعا کرنے کو اُبال اٹھتا ہے اور منہ سے نکلتا ہے اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُـہٗ۔آٹھ دفعہ شراب پی جاتی تھی اس کی بجائے آٹھ نمازیں ہو گئیں۔پتھرمعبود تھے ان کی بجائے حیّ و قیّوم، قادر و توانا، علیم و حکیم خدا سے رشتہ ٔ عبودیت جو ڑدیا گیا۔ان بتوں کی نسبت عجیب عجیب حکایات ہیں۔منجملہ ان کے یہ کہ :۔ایک دفعہ بت پرست سفر پر تھے۔پتھر کے بت تو اُٹھا نہ سکتے تھے آٹے کے بت بنالئے تا اُٹھانے میں سہولت ہو۔مگر اتفاقاً ایسا ہوا کہ کھانے کے لئے آٹا نہ رہا سخت بھوک لگی تو یہ تجویز کی کہ فی الحال ان بتوں کو توڑ کر کھا لیتے ہیں۔چنانچہ ایسا ہی کیا۔گویا یہ تو ان کے خدا تھے۔