ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 231
دوکان چلانے کے واسطے ہمت، استقلال، دیانت، ہوشیاری، عاقبت اندیشی اور امانت کی ضرورت ہے۔فرمایا۔لکھا ہے کہ آدم کو اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار حرفہ سکھلایا ہے۔یورپ نے بہت ترقی ہے مگر ہنوز ہزار تک نوبت نہیں پہنچی۔فرمایا۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ تجارت میں ۱۹ حصہ منافع ہے۔باقی ایک حصہ دیگر حرفوں میں ہے۔فرمایا۔حدیث شریف میں آیا ہے تجارت کے واسطے مغربی ممالک میںجائو۔فرقہ ملامتی صوفیوں کے فرقہ ملامتی کا ذکر تھا۔فرمایا۔اس فرقہ کے لوگ ایسے افعال اور حرکات بظاہر کرتے ہیں جن سے بدنامی حاصل ہو۔اس سے مراد ان کی یہ ہوتی ہے کہ نفس لوگوںکی تعریف سے خوش ہو کر متکبر نہ ہو بلکہ اس کو ایسی سزا ملے کہ وہ نیچے کو گرے اور ذلت کو اختیار کرے۔فرمایا۔میں نے ایسے لوگ بہت دیکھے ہیں۔بڑ ا بڑا مجاہدہ بھی کرتے ہیں لیکن بعض وقت سخت ابتلائوں میں گر جاتے ہیں۔فرمایا۔اس فرقہ کا ایک آدمی احمد نام ہم نے دیکھا تھاجو کہ ضلع شاہ پور میں رہتا تھا۔اُس نے بہت سے مجاہدات کئے ہوئے تھے۔ا یک دفعہ ہم نے اس کی دعوت کی تو کہنے لگا کہ کسی رنڈی کے ہاں سے کھانا پکوایئے اور اپنے پاس بیٹھ کر کھلائے۔یہ شخص آخر ایک بڑے ابتلا میں گرفتار ہوا۔ایک ڈاکٹر نیل مادھو نام شاہ پور میں تھا۔اس کے ساتھ جو کچھ مذہبی گفتگو ہوئی تو اس نے احمد کو کہا کہ ہمیں کچھ کرامت دکھائو تب مان لیتے ہیں۔احمد نے ایسا کمال دکھایا کہ رات کے وقت بابو کو ایسا خوفناک نظارہ دکھائی دیا کہ وہ چیخ اٹھا اور توبہ کر کے مسلمان ہونے کو تیار تھا۔مگر احمداس کے سامنے آیا تو اسے کہا شاید آپ ہماری بات بھول گئے۔آپ نے ہمیں کچھ نہ دکھا یا یہ بات اس نے شرارت سے کی۔احمد حیران ہوا اور دوسری شب اس نے بہت ہی زور لگایا۔بابو نے بعض آدمیوں کے سامنے اس کا ذکر بھی کیا مگر احمد کے سامنے پھر انکار کر دیا۔ایسا ہی تیسری شب بھی ہوا۔جس پر احمد بہت گھبرایا اور اس کے خیال میں آیا کہ شاید اس کے پاس کوئی ایسا کمال ہے جو میرے تصرف سے بڑھ کر ہے۔اس واسطے اُس نے بابو کو کہا کہ آپ اپنا کمال دکھائیں۔بابو نے اُسے شراب پلا کر ناک میں نکیل ڈال کر بازار میں نچایا۔