ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 230
نے اُسے دفن کیا کہ اب اللہ تعالیٰ اس سے بہتر عطا کرے گا۔خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا۔عالم جوانی کے لڑکے فوت ہوتے رہے بڑھاپے کے خدا نے اپنے فضل سے عطا کئے۔تمدن میں نقص فرمایا۔ہمارے ملک کے تمدن میں ایک بڑا نقص ہے کہ ایک ہی مکان میں باپ بیٹا ، بلکہ پوتا بمعہ اپنی عورتوں، بہنوں اور بھائیوں کے اکٹھے رہتے ہیں اور میاں بیوی کو بے تکلفی کے واسطے خلوت میسر نہیں ہوتی اور عزیز و اقربا کا ایک حجاب ہر وقت دل پر رہتا ہے۔اس کا اثر آئندہ اولاد پر بہت برا ہوتا ہے۔اولاد کمزور اور ضعیف القلب پیدا ہوتی ہے۔چاہیے کہ شریعت کے حکم کے مطابق ہر ایک کا گھر جدا ہو۔تکلیف سے خدا ہی بچاتا ہے تجویز ہوئی کہ واپسی پر شام کی گاڑی میں جائیںاور رات بٹالہ ٹھہریں۔ایک دوست نے عرض کی۔رات بٹالہ میں تکلیف ہو گی۔فرمایا۔اگر تکلیف مقدر ہے تو یہاں بھی ہو سکتی ہے۔آرام تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔ذریعہ وحدت ذکر ہوا کہ بعض لوگوں کی رائے ہے کہ نماز اُردو زبان میں پڑھی جائے۔فرمایا کہ پھر پنجابی کہیں گے کہ پنجابی زبان میں نماز ہو۔اور پھر سیالکوٹی کہیں گے کہ سیالکوٹ کی پنجابی میں نماز پڑھی جائے اور اس طرح شہر شہر کی زبان جدا ہونے کے سبب یہ جو ایک بڑا ذریعہ وحدت اسلامی قوم میں ہے یہ بالکل اُٹھ جائے گا۔تجارت جب حضرت اقدس بمعہ خدام مستری موسیٰ صاحب کے ہاں کھانا کھا کر انار کلی میں سے واپس تشریف لائے۔تو راستہ میں حسب درخواست میاں چراغ دین صاحب ان کی دوکان عزیزہاؤس میں تشریف لے گئے۔جہاں برادران میاں عبدالعزیز میاں محمد سعید کام کرتے ہیں۔صاحبان دوکان کو مخاطب کر کے فرمایا۔