ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 22
تمام جماعت احمدیہ کے نام فرمان ۱؎(النساء :۶۰) اس وقت میں اپنی تمام جماعت کو ایک نہایت ضروری امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اس سلسلہ کے بانی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم کا ایک ضروری جزو گورنمنٹ کی وفاداری تھی یہاں تک کہ کوئی کتاب آپ کی ایسی نہیں جس میں اس بات پر زور نہیں دیا گیا۔آپ نے نہ صرف اپنی جماعت کو عام طور پر گورنمنٹ کے احسان اور اس کے برکات یاد دلاکر ہی یہ نصیحت کی تھی کہ وہ اس گورنمنٹ کے دل و جان سے وفادار اور ہر حال میں خدمات کے لئے تیار ہیں۔جیسا کہ تعلیم قرآنی(الرحمٰن :۶۱)کا منشاء ہے بلکہ اپنی اس تعلیم سے کہ جہاد اور غازی مہدی کے آنے کا عقیدہ جو ایک دوسرے کے مؤید ہیں دونوں سراسر تعلیم الاسلام کے خلاف ہیں۔اس سلسلہ میں شامل ہونے والوں کے دلوں کو ہر ایک قسم کی بغاوت اور فساد اور شر کے خیالات سے پاک کردیا تھا۔ایسا ہی سال گذشتہ میں جب اس ملک ہندکے بعض اطراف میں بعض لوگوں نے فساد اور بغاوت کے خیالات پھیلانے شروع کئے تو اس وقت بھی ہمارے امام نے پُرزور الفاظ میں ساری جماعت کو یہ نصیحت کی کہ وہ گورنمنٹ کی وفاداری پر ثابت قدم رہیں اور نہ صرف ایسے لوگوں کے ساتھ جو گورنمنٹ کے خلاف لوگوں کو اکساتے ہیں شامل نہ ہوں بلکہ حتی الوسع اپنے دوسرے وطنی بھائیوں کے ان غلط اور مفسدانہ خیالات کی اصلاح کی کوشش کریں۔چنانچہ ۷؍مئی ۱۹۰۷ء کے اشتہار میں جو بعنوان ’’اپنی تمام جماعت کے لئے ضروری نصیحت‘‘ شائع فرمایا تھا۔آپ نے یہ تحریر فرمایا تھا کہ ’’ چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ ان دنوں میں بعض جاہل اور شریر لوگ اکثر ہندوؤں میں سے اور کچھ مسلمانوں میں سے گورنمنٹ کے مقابل پر ایسی ایسی حرکتیں ظاہر کرتے ہیں جن سے ۱؎ ترجمہ۔اللہ اور اس کے رسول اور حکام وقت کی اطاعت کرو۔