ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 225 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 225

چاہیے اور اس میں غفلت اور سستی ہرگز مناسب نہیں۔ہندئووں کا خدا کس طرح خوش فرمایا۔ایک ہندو ڈاکٹر تھا اس سے ہم نے دریافت کیا کہ ڈاکٹر صاحب کیا آپ بھی مذہب ہندو کے قائل ہیں؟ اس نے کہا میں اس مذہب کا بہت بڑا مداح ہوں کیونکہ اس مذہب میں ایک ایسی خوبی ہے جو کسی مذہب میں نہیں اور وہ یہ ہے کہ ہندو رہنے کے واسطے صرف اتنی بات کافی ہے کہ کھانا کسی دوسرے کے ساتھ مل کر نہ کھائیں۔صرف اتنی پر ہیز سے ہمارا مذہب قائم رہ سکتا ہے اور بس۔کیا احمدی ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتے ہیں ایک شخص نے سوال کیا کہ ہم ہمیشہ دیکھتے چلے آئے ہیں کہ سب مسلمان نماز کے بعد ہاتھ اُٹھا کر دعا مانگا کرتے ہیں۔مگر آپ کی جماعت نہیں کرتی۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ ہم ہاتھ اُٹھا کر دعا مانگنے کے منکر نہیں بلکہ قائل ہیں اور ہم وقتاً فوقتاً اس طرح دعا مانگتے ہیں۔چنانچہ جب بیعت کر چکتا ہے تو اس وقت بھی ساری جماعت موجودہ ہاتھ اٹھاکر دعا کرتی ہے۔اکثر درس قرآن مجید کے بعد بھی لوگوں کی درخواست پر اس طرح دعا کی جاتی ہے لیکن نماز کے بعد اس طرح دعا مانگنا مسنون نہیں۔آنحضرت ﷺ پہلی سنتیں گھر سے پڑھ کر باہر تشریف لایا کرتے تھے اور پچھلی سنتیں پھر گھر میں جا کر پڑھتے تھے۔فرضوں کے بعد فوراً چلے جاتے تھے۔یہی طریق حضرت مرزا صاحب کا بھی تھا۔اور اکثر اولیاء اللہ ایسا ہی کرتے تھے مگر بعض بزرگوں نے دیکھا کہ لوگ اس طرح سنتوں کے اداکرنے میں غفلت کرتے ہیں اور فرضوں کے بعد فوراً گھر چلے جاتے ہیں تو پھر سنتوں کی ادائیگی میں سستی کرتے ہیں اس واسطے انہوں نے یہ عادت ڈالی کہ نماز مسجد میں ہی پوری ادا کی جائے۔نمازساری دُعا ہے لوگوں نے نماز کو ایک اور شے سمجھا ہے اس کو جلدی جلدی پورا کر لیتے ہیں اور پھر دعامیں ہاتھ اُٹھا کر لمبی دعائیں مانگتے ہیں۔نماز کے اندر جو اصل قبولیت کا وقت ہوتا ہے ان کے دل خشک ہوتے ہیں اور پھر دعا میں کچھ رقت ظاہر کرتے ہیں۔حالانکہ اصل دعا کا وقت تو نماز کے اندر ہے۔کھڑے ہوئے رکوع میں سجدہ میں بیٹھے ہوئے نماز کے اندر دعا مانگنی چاہیے۔اب ایک رسم پڑ گئی ہے کہ نما زپڑھ کر امام مقید ہو کر بیٹھتا ہے کہ لوگ فارغ ہوں تو دُعا کرے