ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 224
شیطانی خواب سے حفاظت شہادت کے بعد حضور مکان پر تشریف لائے پہلے تو ارادہ تھا کہ اسی روز واپس آ جاتے مگر بعض معززین ملتان کے اصرار سے ایک روز اور قیا م کرنا منظور فرمایا۔بہت سے بیمار حاضر ہوئے اور شام تک یہی سلسلہ جاری رہا۔دوسرے دن بھی پھر شام تک یہی سلسلہ جاری رہا۔درمیان میں بعض لوگ کچھ مسائل بھی دریافت کر لیتے۔ایک شخص نے عرض کی کہ مجھے بہت خوابیں آتی ہیں۔میں نہیں جانتا کہ ان میں کچھ شیطانی بھی ہو ں۔فرمایا کہ تم سونے سے قبل قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ہر دو سورتیں پڑھ کر ہاتھ پر پھونک کر سارے بدن پر ہاتھ پھیر لیا کرو اور لاحول پڑھا کرو۔اس سے تم محفوظ رہو گے۔بُرا خواب آوے تو اعوذ پڑھو اور لاحول پڑھو اور بائیں طرف تھوک دو۔اللہ تعالیٰ اس کے شر سے تم کو محفوظ رکھے گا۔تکلیف امر خیالی ہے ایک شخص نے عرض کی کہ حضور کو کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی۔فرمایا۔تکلیف بھی ایک خیالی بات ہے ایک نان پز ایک روٹی کے واسطے دو بار تنور میں سر ڈالتا ہے مجھے اگر کوئی دو لاکھ روپیہ دے تو میں ایک دفعہ بھی تنور میں سر ڈالنا نہیں چاہتا۔میں تو یہی کہہ دوں کہ مجھے روپیہ کی ضرورت نہیں۔فرقہ چکڑالوی پر ایک سوال فرمایا۔میں نے چکڑالویوں پر دو سوال کئے تھے جن کے وہ کچھ جواب نہ دے سکے۔ان میں سے ایک سوال یہ تھا کہ جب تم کلمہ شریف لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ اس واسطے نہیں پڑھتے کہ یہ الفاظ اس طرح قرآن شریف میں ایک جگہ نہیں آئے تو پھر نماز جو تم نے بنائی ہے وہ کیوں پڑھتے ہو اس کے الفاظ بھی تو قرآن شریف میں ایک جگہ جمع ہوکر نہیں آئے۔نماز کی تاکید فرمایا۔نماز سنوار کر پڑھو۔وہ شخص غافل ہے جو نماز کو چھوڑتا ہے۔زمین و آسمان کے بادشاہ کے حضور کھڑے ہوکر بات کرنے کاموقعہ انسان کو نماز میں ملتا ہے اس کی طرف پوری توجہ کرنی