ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 226 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 226

تب اس کی بند خلاص ہو۔پھر لوگ ہیں کہ دعا پر دعا کی تحریک کرتے چلے جاتے ہیں کوئی کہتا ہے دعا کرو کہ بندی والوں کی بند خلاص ہو۔کوئی کہتا ہے دعا کرو کہ بیماروں کو شفاء۔دُعا کے واسطے شرط اضطراب اور جوش ہے وہ ان کو حاصل نہیں پھر دعا کیسی چاہیے کہ نماز کے اندر دعا کی جاوے۔استقامت فرمایا۔بچپن سے جن سچائیوں پر قائم ہوں آج تک میں ان کو راست پاتا ہوں اور انہیں پر قائم ہوںیہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔وساوس کس طرح دور ہوں ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور مجھے نماز میں وساوس بہت آتے ہیں ان کا کیا علاج کروں؟ فرمایا۔نماز کے معنے سیکھ لو اور معنوں کی طرف توجہ کر کے نماز پڑھو انشاء اللہ حضوری حاصل ہو گی۔وساوس کی پرواہ نہ کرو جہاں مال ہوتا ہے وہاں چور بھی آتا ہے تم اپنی طرف سے کوشش کرتے رہو آگے خدا تعالیٰ حفاظت کرنے والا ہے۔موجودہ حالت حضر ت خلیفۃ المسیح کے حضور میں بہت سے مریض حاضر ہوئے جن میں اکثر ضعف قلب اور کمزوری میں مبتلا ء تھے۔فرمایا۔یہ بے کاری ، سستی اور افلاس کا نتیجہ ہے دوکانیں عموماً میلی اور خراب سی ہیں۔ہر طرف غربت اور کمزوری کے آثار نمودار ہیں۔شہر کے ارد گرد زمینیں چنداں آباد نہیں۔کوئی شاندار مکان نہیں۔جا بجا عربوں کے فتوحات کا نمونہ کھجور کا درخت موجود ہے اور سب درختوں سے سر اونچا نکال کر اس جڑ ھ کے لگانے والے عالی ہمت لوگوں کے یہاں تک پہنچنے کی شہادت دے رہا ہے۔یہاں کے رسومات میں ایک عجیب بات یہ معلوم ہوئی کہ ہندو لوگ جن کو کراڑ کہتے ہیں شادیوں کے موقعہ پر ہاتھ میں لکڑی لے کر ناچتے ہیں۔چلتی کل اچھی ایک بیمار کو جو چل پھر نہ سکتا تھا فرمایا۔یہ کل بھی چلتی ہی اچھی لگتی ہے انسان کے واسطے لازم ہے کہ ہر وقت خدا کا شکر کرتا رہے۔