ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 191 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 191

روحانی و جسمانی ورزشیں اور ان کی افادیت و اہمیت چند روز کا ذکرہے مدرسہ تعلیم الاسلام کے طلباء کھیل کر آرہے تھے اور حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ کسی مریض کو دیکھ کر تشریف لارہے تھے اپنی معمولی ذرہ نوازی کے اصول پر ایڈیٹر الحکم کے دفتر کے سامنے ٹھہر کر بعض اخباری تازہ امور کے متعلق استفسار فرما رہے تھے کہ اتنے میں وہ طالب علم بھی وہیں آپہنچے۔حضرت نے بچوں کو دیکھ کر سلام علیکم کہنے میں ابتدا فرمائی اور یہ آپ کا علی العموم معمول ہے کہ حضرت امام مغفور کی طرح خود سلام میں ابتدا فرماتے ہیں۔بچے کھڑے ہو گئے۔فرمایا۔میں تمہیں کھیلتے ہوئے دیکھ کر بھی بہت خوش ہوتا ہوں تعلیمی اور دماغی محنت کے بعد کھیلنا اور ورزش کرنا ضروری ہے اس سے قویٰ تازہ دم ہو جاتے ہیں اور اعضا میں چستی اور پھرتی پیدا ہوتی ہے صحت اچھی رہتی ہے۔لیکن میں یہ کبھی پسند نہیں کرتا کہ تم کھیل کو د کو اپنی تعلیم پر مقدّم کر لو اور وقت جیسی قیمتی شیٔ کا بہت بڑا حصہ کھیل کود میں صرف کر دو۔جسمانی صحت بڑی ضروری چیز ہے۔قرآن مجید نے اسی اصل پر کھانے پینے پہننے اور دوسرے امور صفائی وغیرہ کے متعلق خاص ہدایات دی ہیں۔پھر جس طرح پر جسمانی ورزش اور کسرت تمہارے جسم کے نشوونما اور صحت کے لئے ضروری چیز ہے اسی طرح روح کو صحت اور درستی کی حالت میں رکھنے کے لئے بھی ایک قسم کی ورزش کی ضرورت ہے۔جب تک اس ورزش سے انسان کام نہیں لیتا روحانی بیماریاں حملہ کرتی ہیں اور روح کو نکما کر دیتی ہیں وہ ورزش روحانی اصطلاح میں مجاہدہ کہلاتی ہے اور وہ عام بات ہے۔منجملہ اس کے ایک نماز ہے۔نمازوں کی پابندی انسان کے اندر بہت سی خوبیاں پیدا کر دیتی ہے۔صفائی اور پاکیزگی کا خیال رہتا ہے، حفظ اوقات کی عادت پیدا ہوتی ہے، باہم اتفاق اور وحدت کا سبق ملتا ہے، سب سے بڑھ کر دعاؤں کا موقع ملتا ہے جس سے انسان کے اخلاق عادات سنور سکتے ہیں۔اور نیک عادتیں اور خصلتیں بھی ایسی عمدہ چیز ہیں جو انسان کی صحت کو دراصل قائم رکھتی ہیں اگر انسان بڑا ہی طاقت ور ہو اور جسمانی صحت اچھی بھی ہو مگر بد چلن ہو جاوے تو اس کی طاقتیں زائل اور صحت خراب ہو جاتی ہے۔پس تندرستی کے قائم رکھنے کے لئے جس چیز کی دراصل ضرورت ہے وہ نیک عادات اور