ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 190 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 190

میں اب اس خط کو ختم کرتا ہوں اور اس بات کو ظاہر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔میرے ایک دوست تھے کتابوں کی تجارت کرتے تھے۔مکہ معظمہ کے رہنے والے تھے۔کبھی کبھی بعد الحج وہ بمبئی میں آجاتے تھے ایک دفعہ انہوں نے مجھے ایسے خط پر جو میں نے کتابوں کی طلب پر انہیں لکھا تھا اور سوائے طلب کتب کچھ بھی اس میں ذکر نہ تھا بڑی ملامت کی تھی۔اور یہ لکھا تھا کہ الدین النصیحۃ اس عنوان کے نیچے پھر مجھے لکھا کہ تیرے سارے خط میں کوئی نصیحت نہ تھی۔اس واسطے مجھے بہت ہی رنج ہوا۔پھر وہ مجھے لکھتے ہیں۔اُوْصِیْکَ بِتَقْوَی اللّٰہِ فَقَدْ فَازَ الْمُتَّقُوْنَ وَاَنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَالَّذِیْنَ ھُمْ مُحْسِنُوْنَ۔میں بھی آپ کو انہیں دونوں باتوں کی طرف متوجہ کرتا ہوں اور بتاکید عرض کرتا ہوں کہ معلم جہاں تک ممکن ہو مخلص، دعائوں کے مانگنے والا، تکبر اور دنیا طلبی سے پاک، دعائوں کے قائل، تقویٰ اور دعا کو ہتھیار بنانے والے جب تک آپ مہیا نہ کریں گے آپ یقینا یاد رکھیں کامیابی بالکل محال ہو گی۔میری عمر ستر سے تجاوز کرتی ہے اور مجھے نوجوانوں اور علماء سے بہت ہی معاملہ پڑا ہے۔اس لئے آخر میں اس عرض کو ضروری سمجھا جو لوگ دعائوں کے قائل نہیں اور متقی نہیں اور اخلاص اور صواب ان کے مدنظر نہیں وہ کیا مفید ہو سکتے ہیں۔ (الانفال:۳۰) باتیں بنانا بہت آسان ہے پر ان کا موثر کرنا تقویٰ پر موقوف ہے۔حضرت ابراہیم کی دعاقرآن میں مکرّر آتی ہے جہاں وہ جناب الٰہی سے (البقرۃ:۱۳۰) کی دعا مانگتے ہیں وہاں (البقرۃ:۱۳۰) کے پیچھے یُزَکِّی کو ضرور لگاتے ہیں۔آپ جو کتاب میری یا حضرت صاحب کی تصنیف طلب فرما ویں گے ہمیں ان کے بھیجنے میں کوئی تامّل مانع نہیں ہے۔نو رالدین (الحکم جلد۱۴ نمبر۴ مورخہ ۷؍ فروری ۱۹۱۰ء صفحہ۹)