ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 186 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 186

کا شکر کیا۔ایک آدمی میرے ساتھ کیا اور میں آپ کے مکان پر پہنچا۔معلوم ہوا کہ آپ عصر کے وقت مل سکیں گے چنانچہ آپ اس وقت سیڑھیوں سے اترے تو میں نے دیکھتے ہی دل میں کہا کہ بس یہی مرزا ہے اور اس پر میں سارا ہی قربان ہو جائوں۔آپ دور تک میرے ساتھ چلے گئے اور مجھے یہ بھی فرمایا کہ امید ہے کہ آپ جلد واپس آجاویں گے حالانکہ میں ملازم تھا اور بیعت وغیرہ کا سلسلہ بھی نہیں تھا چنانچہ پھر میں آگیا اور ایسا آیا کہ یہیں کا ہو رہا۔مومن میں ایک فراست ہوتی ہے۔فوت شدگان کے حالات سے آگاہی حضرت امیرالمومنین نے(الانعام:۱۱۲) کے بارے میں فرمایا۔کوئی چالیس پچاس برس کی بات ہے۔میں نے خواب میں ایک شخص کو موتٰیمیں دیکھا جو بیمار معلوم ہوتا تھا۔میں نے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا فلاں محبوبہ (جس کی شکل میرے سامنے کی گئی) کے عشق میں یہ حالت ہے۔میں فاصلہ پر رہتا تھا کچھ دنوں کے بعد معلوم ہوا کہ واقعی اسی دن وہ مرا۔پھر میں نے اس کے عشق کے بارے میں اس کے ایک خاص دوست سے دریافت کیا تو اس نے بڑا تعجب کیا وہ کہنے لگا اس بات کا علم سوائے میرے اور عاشق معشوق کے اور کسی کو ہرگز نہیں۔کچھ دنوں بعد میں نے لڑکیوں میں اس لڑکی کو بھی پہچان لیا اور تصدیق بھی کر لی۔دوم۔ایک شرابی فاسق فاجر شخص کو میں نے بہشت اور غرفات آمنون میں دیکھا۔میں نے ازراہِ تعجب پوچھا تم بہشت میں کیسے آگئے۔تو اس نے کہا کہ خدا نے میری غریب الوطنی پر رحم کر دیا۔ان کے گھر سے دریافت کیا تو انہیں اس کی موت کا علم بھی نہ تھا یہی کہتے کہ کچہری گیا ہے اور واپس نہیں آیا۔آخر ایک واقف کار سیاح آئے تو انہوں نے بتایا کہ وہ بمبئی سے پرے مر گیا ہے اور حج کو جارہا تھا۔اس وقت ان کے گھر والوں کو علم ہوا اور مجھ سے مردے نے پہلے بات کی۔اللہ تعالیٰ مردوں سے بھی نصیحت اور صداقت کا اظہار کرتا رہتا ہے۔(بدر) (الحکم جلد ۱۴نمبر ۴ مورخہ۷؍ فروری ۱۹۱۰ء صفحہ ۷)