ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 187
مدرسہ الہیات کے سیکرٹری کے نام بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ و نصلی علٰی رسولہ الکریم مکرم معظم۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہ ہندوستان میں جہاں تک مجھے علم ہے یہ چند لوگ الہیات کے مختلف شاخوں پر بحث کرنے والے گزرے ہیں اور ہیں۔پہلے حضرت شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی جنہوں نے ازالۃ الخلفاء اور قرۃ العین شیعوں کے مقابلہ میں اور حجۃ اللّٰہ البالغہ اور خیر کثیر جیسی کتابیں لکھی ہیں ان کے بعد شاہ عبدالعزیز صاحب نے تحفہ اثنا عشریہ اور رجوم للشیاطین جیسی کتابیں شیعوں کے مقابلہ میں تصنیف کیں ان کے آخر مولوی حیدر علی مرحوم تھے لکھنؤ کے مجتہدوں اور علماء میں میر حامد حسین اور ان کے بھائی اور ان کے والد گزرے ہیں جنہوں نے تشئید المطاعن استقضاء الفہام اور عبقات الانوار جیسی وسیع کتابیں لکھیں مگر یہ مباحثہ اسلامی فرقوں میں محدود تھا۔عیسائیوں کے مقابلہ میں استفسار اور اظہار الحق سید آل حسن اور مولوی رحمت اللہ کی مبارک تصنیف اپنے وقت میں اپنا نظیر آپ ہی تھی استفسار اور اظہار الحق کی محنت کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے مگر مسلمانوں نے ان دونوں کتابوں سے بہت کم فائدہ اٹھایا۔اب ان کے بعد مولوی محمد علی کانپوری صاحب پیغام محمدی و دفع التلبیسات اور مراسلاتچودھری مولا بخش اور سید احمدخان بہادر اورمولوی مہدی علی صاحب کی تصنیف بھی کچھ کم قابل قدر نہ تھیں۔آریہ کا جدید مذہب ان کے مقابلہ میں حضرت مولوی محمد قاسم ناناتوی کے چھوٹے چھوٹے رسائل بہت ہی مفید اور بابرکت تھے مگر ہمارے علماء نے ایسے مسلم الثبوت عالم کی تصنیف سے بھی کم ہی فائدہ اٹھایا آخر حضر ت مرزا صاحب نے جنگ مقدس، سرمہ چشم آریہ، ست بچن، چشمہ معرفت۱؎ ۱؎ الخلافۃ۔جلسہ اعظم مذاہب کی تقریر۔