ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 184
مباحثات اور تبلیغ و وعظ فرمایا۔مومن کبھی مباحثات کی ابتدائً خواہش نہ کرے۔اپنے علم پر اپنی زبان پر کسی قسم کا گھمنڈ دل میں نہ لائے اور خدا کے حضور گر پڑے اور نفسانی جوش کا مطلق دخل نہ ہو بلکہ جو کچھ کہے یا کرے للہ ہو تو وہ شخص ابراہیم بن جاتا ہے اور خدا اپنے فضل خاص سے اس کا بن جاتا ہے اور اسے وقت پر وہ باتیں سمجھاتا ہے جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہ گزری ہوں۔دوسراموقع تبلیغ ووعظ کا ہے۔اس میں پہلے بقدر اپنی طاقت کے مضمون سوچے پھر سارا بھروسہ اللہ پر رکھے کیونکہ اس تقریر کے لئے اثر پیدا کرنا اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے پھر خدا تعالیٰ اس شخص کی بات کو ضائع نہیں جانے دیتا۔بڑی عمر میں حفظ قرآن ایک شخص یہاں آیاجو میری محبت سے معمور نظر آتا تھا میں نے اسے پوچھا تو اس نے کہا۔آپ نے ایک دفعہ درس میں فرمایا تھا اگر کوئی شخص قُلْ ھُوَ اللّٰہُ جتنا قرآن ہر روز یاد کرے تو ۷سال میں حافظ ہوجائے۔میں نے اس پر عمل شروع کیا۔اب ستائیسواں پارہ حفظ کرتا ہوں۔دیکھو ہماری بات ضائع نہ گئی۔مقطعات قرآنی ایک دفعہ میں نے خواب میں دیکھا کہ مولوی عبدالقدوس صاحب کی گود میں پانچ خوبصورت لڑکے ہیں جو میں نے اچک لئے ہیں۔ان سے میں نے پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے تو وہ بولے ۔دوران نماز مقطعات قرآنی کی تفہیم فرمایا۔ایک مرتد نے ترک اسلام میں مقطعات قرآنی پر اعتراض کیا نمازمیں غالباًبین السجدتین دعا کرنے پر ایک پَل میں ان کا راز مجھ پر کھل گیا۔اولاد کی ضرورت فرمایا۔ (الشوریٰ:۵۰) کو پہلے رکھا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی بڑا فضل ہے۔فرمایا۔ہماری بہت سی اولاد مری بھی ہے لیکن ہم نے ہرحالت میں اللہ کا شکر کیا یہاں بھی اولاد کی ضرورت ہے اور آگے بھی۔جو یہاں کے لائق نہ تھاخدا نے اسے آگے بطورفرط رخصت فرما دیا۔