ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 183
الغرض وہ تمام تکالیف جو آپ کے خیال کے مطابق لعنت کے مفہوم کے واسطے کافی ہیں حضرت یوسف ؑ پر وارد ہو گئیں لیکن اُسے کوئی ملعون نہیں کہتا۔ملعون صرف اسے کہا جاتا ہے جس پر کاٹھ پر لٹکنا اور وہیں مر جانا ہر دو باتیں وارد ہوں۔پس سچی بات یہی ہے کہ جس طرح حضرت مسیح کے صلیب پر نہ مرنے کے ثبوت سے کسر صلیب ہوتی ہے اس طرح کسی اور بات سے نہیں ہوتی۔اور میں آپ کو ایک خوشخبری سناتا ہوں کہ حال میں ایک پورانی انجیل ظاہر ہوئی ہے جس کو بڑے بڑے پادری آج تک دباتے چلے آتے تھے۔اس کا انگریزی ترجمہ اب امریکہ میں چھپ گیا ہے اس میں صاف لکھا ہے کہ حضرت مسیح صلیب پر مرے نہ تھے بیہوش ہو گئے تھے مگر اس وقت سب نے یہ خیال کیا کہ مر گئے ہیں۔جب صلیب سے اُتارا تو کسی ایک آدھ نے محسوس کیا کہ جان باقی ہے اس واسطے پہرہ داروں کی منت خوشامد کر کے ہڈیوں کے توڑنے سے بچا لیا۔یہودی کوئی موجود نہ تھا سب عید فسح کی تیاری کے سبب چلے گئے اس واسطے جان بچ جانے کے اسباب پیدا ہو گئے اور جان بچا کر وہ کسی اور ملک کو چلے گئے۔اُمید ہے کہ آپ کی تشفی کے واسطے یہ کافی ہو گا۔ہاں اتنی بات آپ کی اطلاع کے لئے اور لکھ دیتا ہوں چونکہ آپ مشن اسکول میں کام کرتے ہیں اس لئے آپ کے لئے مفید ہو گی اور وہ یہ ہے کہ آپ نے جو اپنے خط میں یسوع کے نبی معصوم ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے اور یسوعی لوگ اکثر اس بات کو مسلمانوں کے سامنے پیش کرتے ہیں سو اس کے جواب میں ایک مختصر بات ہے۔انجیل میں تو صاف لکھا ہے کہ اس نے نیک ہونے سے بھی انکار کیا اور ظاہر ہے جو نیک نہیں وہ معصوم کیونکر ہے اور قرآن شریف میں کہیں عصمت کا لفظ حضرت عیسیٰ کے متعلق نہیں بولاگیا۔ہاں قرآن شریف میں حضرت نبی کریم ﷺ کو معصوم کہا ہے۔پس حضرت عیسیٰ کی عصمت کے متعلق قرآن شریف خاموش اور انجیل منکر ہے۔پس کس طرح یسوعی لوگ یہ دعویٰ کر سکتے ہیں۔والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ خادم محمد صادق عفی اللہ عنہ قادیان ۲۵ ؍جنوری ۱۹۱۰ء (البدر جلد۹ نمبر۱۵ مورخہ ۳ ؍فروری ۱۹۱۰ء صفحہ ۴،۵)