ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 182
کی شریعت سے ناواقفیت پر مبنی ہے۔توریت کتاب استثناء باب ۲۲ آیت ۲۲ جہاں یہ حکم ہے وہاں قتل اور موت کے الفاظ کاٹھ پر لٹکایا جانے کے ساتھ صاف درج ہیں۔اور اسی آیت کے مطابق یسوع کو صلیب سے جلد اتارنے کے واسطے کہا گیا تھا۔کیونکہ اس آیت میں لکھا ہے کہ ایسے مقتول کی لاش رات بھر کاٹھ پر لٹکی نہ رہے ورنہ زمین ناپاک ہو جاتی ہے۔لاش کا لفظ خود بتلا رہا ہے کہ مرنا لازمی رکھا گیا ہے اور یہودیوں نے بھی سمجھ لیا تھا کہ یسوع مر گیا ہے۔آجکل بھی اس محاورہ کی تصدیق ہوتی ہے اخباروں میں لکھا ہوا ہوتا ہے کہ ایک شخص نے پھانسی پائی۔اس کے معنے یہی کئے جاتے ہیں کہ گلے میں رسی ڈالنے کے ذریعہ سے قتل کیا گیا اور مر گیا۔رسی یا لکڑی صرف ذرائع اور ہتھیار ہیں جن کے ذریعہ سے موت وارد کی جاتی ہے جب تک کہ کوئی شخص مر نہیں جاتا اس کو نہیں کہہ سکتے کہ وہ مصلوب ہو گیا۔صرف تذلیل سے اگر کوئی شخص ملعون ہو سکتا ہے تو پھر مثلاً حضرت یوسفؑ کے قتل کا منصوبہ کیا گیا اس کے کپڑے اُتارے گئے اُسے ننگاکیا گیا ، اُسے تاریک کنویں میں ڈالا گیا۔گویا وہ اپنی طرف سے تو قتل کر چکے تھے جیساکہ یہود حضرت مسیح کوکر چکے تھے۔مگر یوسف ؑ بعینہٖ یسوع کی طرح موت کے منہ سے بچا۔یہودی عقائد کے مطابق حضرت یو سف کو کہیں ( نعوذ باللہ ) ملعون نہیں کہا گیا۔حالانکہ یسوع سے بڑھ کر ایک ظلم حضرت یوسف ؑ پر یہ ہوا کہ اُسے غلام بنایا گیا اور بنی اسماعیل اہل عرب کے ہاتھ بیچا گیا اور اس لحاظ سے بنی یوسف اہل عرب اسماعیلیوں کے غلام ہیں اور نسب نامہ متی کے مطابق یسوع بھی اسی یوسف کی اولاد میں سے تھا۔یہی راز ہے کہ حضرت مسیح موعود کا نام بھی اسی مماثلت کے سبب غلام احمد ہوا۔پہلا مسیح بذریعہ اپنے نسب نامہ کے آنحضرت ﷺ کا غلام زادہ تھا۔پھر یہ تو آنحضرت ؐ کا خود غلام ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں۔؎ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے یہی سبب ہے کہ حضرت عیسیٰ کا نام ابن مریم ہوا کیونکہ انہوں نے روحانیات میں ابنیت کا مرتبہ طے کیا تھا اور خودمریمی درجے کو حاصل نہ کیا تھا۔