ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 181 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 181

اس لحاظ سے ہوگی کہ اہل صلیب کا عقیدہ کیا ہے نہ اس لحاظ سے کہ آپ کا عقیدہ کیا ہے۔سو یہودیوں کے نزدیک ملعون ہونے کے واسطے صلیب پر موت ضروری تھی اور جیسا کہ انجیلوں سے ظاہر ہے وہ یسوع کی صلیبی موت کے خواہاں تھے چنانچہ واقعہ صلیب کے بعد بھی ان کو یہ فکر رہی کہ اس کی موت کا امر مشتبہ نہ ہو۔اور اسی واسطے حاکم کے پاس آئے اور کہا کہ ایسا نہ ہو کہ اس کے شاگرد اسے قبر میں سے چر ا لے جاویں اور لوگوں سے کہیں کہ وہ جی اٹھا اس سے بھی ظاہر ہے کہ اس کی موت میں اس کا ملعون ہونا مانتے تھے نہ کہ صرف تکالیف اٹھا کر بچ رہنے میں۔ایسا ہی یسوعی صاحبان کا مسئلہ کفارہ مکمل ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ یسوع مرکر ملعون اور جہنمی نہ بنے۔پس ظاہر ہے کہ یہودیوں اور یسوعیوں ہر دو کے عقائد کے مطابق حضرت مسیح کے صلیب پر مر جانے کے فعل سے اس کا ملعون ہونا پورا ہوتا ہے نہ کہ اس کے صلیب پر سے بچ رہنے میں اور چونکہ حضرت مرزا صاحب نے یہ امر ثابت کر دیا ہے کہ وہ صلیب پر نہیں مرا بلکہ بچ گیا۔اپنی اس دعا کے مطابق جو اس نے ساری رات رو رو کر خدا تعالیٰ کے حضور میں کی تھی اور جس کا ذکر کتاب عبرانیوں کے پا نچویں باب میں بھی آیا ہے کہ اس کے تقویٰ کے سبب اس کی دعا سنی گئی۔پس جب کہ وہ صلیبی موت سے بچ گیا تو وہ ملعون نہ ہوا اور جیسا کہ لارڈ بشپ صاحب نے لاہور میں اپنے ایک لیکچر میں ہزاروں آدمیوں کے جلسہ میں فرمایا تھا کہ اگر یسوع صلیب پر مر نہیں گیا اور پھر تیسرے دن جی نہیں اٹھا تو دین عیسوی ہیچ ہے۔یسوع کے صلیبی موت کے ابطال کے ساتھ ہی دین یسوعی ہیچ اورباطل ثابت ہو گیا۔سو جس بات کو خصم نے خود تسلیم کر لیا ہے کہ اس کے ثبوت سے دین یسوعی کی بیخ وبن اُ کھڑ جاتی ہے اس کو آپ کس طرح کہتے ہیں کہ اس سے کسر صلیب نہیں ہوئی۔دین یسوعی کا بڑا مسئلہ کفارہ ہے اور کفارے کی چھت اس ایک ہی ستون پر کھڑی ہے جس کا نام ہے صلیبی موت۔جب یہ ستون ٹوٹ گیا اور چھت خاک میں مل گئی تو پھر تعجب ہے کہ آپ کس طرح کہتے ہیں کہ حضرت مرز ا صاحب نے کسر صلیب نہیں کی۔اور اگر کسی کے دل میں یہ وسوسہ ہو کہ یہودیوں کی کتاب میں یہ لکھا تھا کہ جو کاٹھ پر لٹکایا گیا سو لعنتی ہے اور حضرت مسیح کاٹھ پر لٹکائے تو گئے خواہ مرے نہ ہوں وہ مصلوب ہو گئے تو یہ وسوسہ یہودیوں