ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 180 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 180

کی اور یہودیوں کا اعتقاد یہ تھا کہ مصلوب کی روح ملعون ہوتی ہے اور جن امور کے لحاظ سے مصلوب کی روح ملعون ہوتی ہے وہ تمام امور تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام پر نعوذ باللہ واقع ہو ئے صرف جان ہی سلامت لے کر گئے۔جو ان امور میں جن کے لحاظ سے مصلوب کی موت لعنتیوں کی موت ہے شامل ہی نہیں۔کیونکہ اگر ایسا ہوتو نعوذبا للہ تمام موتیں ایسی ہوں۔یہ ایسی فاسد تفسیر ہے کہ اس سے خدا تعالیٰ کی ذات مقدس اور اس کے معصوم نبی کی ذات پر بڑا بھاری داغ آتا ہے۔اگر یہ کہا جاوے کہ ان کے اعتقادی مکر کی تردید نہیں کی بلکہ صرف ان کے اعتقاد کی تردید کی۔تو(اٰل عمران:۵۵)(اٰل عمران:۵۶) کے کیا معنے ؟ جواب از پیش گاہ حضرت خلیفۃ المسیح والمہدی قادیان بسم اللّٰہ الرحمٰن الرَّحِیم نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم جناب …… صاحب بعدما وجب آپ کا کارڈ حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں پہنچا۔جس میں آپ نے دریافت فرمایا ہے کہ حضرت مرزا صاحب کس طرح کاسر صلیب ہوئے اور حضرت مسیح کے متعلق آیات کی تفسیر جو حضرت مرزا صاحب نے کی ہے اس کو آپ نے فاسد قرار دیا ہے۔مگر معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس معاملہ میں غور اور توجہ سے کام نہیں لیا۔آپ کے خط سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے خیال میں کسی شخص کا ملعون ہونا اس کے گرفتار کیا جانے، صلیب کا فتویٰ پانے اور صلیب پر باندھا جانے سے ثابت ہو جاتا ہے خواہ بعد میں وہ شخص زندہ ہی رہے۔ہم اس امر پر بحث کرنا نہیں چاہتے کہ آیا آپ کا خیال صحیح ہے یاغلط۔کیونکہ واقعہ صلیب کے موقعہ پر نہ آپ موجود تھے اور نہ آپ کا کوئی ہم خیال فریق مقدمہ تھا۔لیکن ہم یہ دیکھیں گے کہ آیا وہ دو قومیں جن کے درمیان یسوع کے نبی یا ملعون ہونے کے متعلق جھگڑا پیدا ہوا اور اب تک ہے ان کا عقیدہ اس معاملہ میں کیا ہے کہ ملعون کسے کہتے ہیں۔کیونکہ کسر صلیب