ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 178 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 178

(۴)شفاعت رسول نبی کریم ؐ شفیع ہیں۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ(النساء:۶۵) اس میں صاف بیان فرمایا گیا ہے کہ گنہگاروں کے لئے اگر رسول بھی استغفار کرے تومعافی مل سکتی ہے اور سورہ زخرف میں ہے۔ (الزخرف:۸۷)یہاں صاف ظاہر ہے کہ شفیع وہ شخص ہے جس نے حق کی گواہی دی اور مکہ والے اس کو جانتے ہیں یعنی حضور نبی کریم ﷺ۔(۵) آدم اور اس سے متعلقہ امور میں نے اوپر لکھا ہے کہ آدم کا بیٹا آدم ہوتا ہے۔آدم کو خدا تعالیٰ نے کچھ حکم کئے تھے اور کچھ مناہی۔مثلاً (البقرۃ:۳۶) اور ساتھ ہی فرما دیا تھا۔اس طرح مجھ کوبھی کچھ اوامر اورنواہی فرمائے ہیں۔جب میں نواہی کا ارتکاب کرتا ہوں تو میری روح مقام آرام سے نکل جاتی ہے اور ظاہر ہے کہ جو شخص بادشاہ کے احکام کی خلاف ورزی کرتا ہے وہ اس بادشاہ کے آرام کے مقام میں نہیں رکھا جاتا۔آدم کا جنت اسی دنیا میں تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (البقرۃ:۳۱)۔قرآن شریف میں کہیں گناہ (جناح) کا لفظ آدم کی نسبت نہیں آیا۔جناح اور جرم کے لفظ قرآن شریف میں آدم کی نسبت آج تک مجھ کو کہیں نظر نہیں آئے۔آپ لکھتے ہیں کہ وہ پیغمبر تھے۔مجھ کو ایسی بھی کوئی آیت معلوم نہیں جس میں بیان فرمایا ہو کہ آدم پیغمبر تھے۔( اکبر شاہ خاں بحکم امیر المومنین )۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیوہ کی عدت متوفی عنہا زوجہا ( بیوہ ) کی دو عدتیں قرآن میں علیحدہ علیحدہ ہیں۔  (النساء:۷۹)۔(۱)متوفی عنہا زوجہا غیر حاملہ اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے اور اس کے لئے وصیت ہو کہ سال تک خود نہ نکالنا سورۃ بقرہ۔