ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 156
مدرسہ کے طلبہ کو نصیحت (۱۴؍جولائی ۱۹۰۹ء۔عصر) تم جانتے ہو نہ ہمیں اپنی زندگی کا علم ہے نہ تمہیں اپنی واپسی کا۔پس میں تمہیں مختصر نصیحت کرتا ہوں جو یہ ہے کہ لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہَ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ جو کام کرو اس میں دیکھ لوکہ تمہارے نفس ، خواہش، دنیا طلبی کا کتنا دخل ہے اور خدا کی رضا اور مخلوق کی شفقت کے خیال کا کتنا دخل ہے۔پس تم اپنی خواہشوں کو خدا کی رضا کے مقابلہ میں کچھ نہ سمجھو۔خدا کی رضا کا علم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ ہوا ہے اس لئے قرآن شریف و احادیث پر اپنا عمل رکھو۔تمہارے ماں باپ بھائیوں نے تمہاری تعلیم کے لئے بہت کچھ خرچ کیا ہے اگر تم تعلیم اسلام میں پختہ رہو گے تو یہ خرچ ٹھکانے لگے گا۔ورنہ اگر تم انگریزی کے تمام حروف تہجی کے القاب حاصل کرلو گے۔پھر اگر تمہارے ساتھ کلمہ کا اعتقاد نہیں تو پھر تمہارا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔پس ہماری آخری وصیت یہی ہے کہ لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہَمُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ پر پکے رہو۔جس ایقان کا عملی رنگ میں ظہور نمازوں کے ذریعے ہوتا ہے، پھر ماں باپ کے ادب سے، پھر بڑے بھائیوں کے ادب سے، پھر گھر کی بڑی بوڑھی عورتوں کے ادب سے۔فضولیوں کی عادت مت ڈالو، جھوٹ نہ بولو، دغا، فریب ، برائی، تکبّر، بدظنی نہ کرو۔کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے۔اِیَّا کُمْ وَ الظَّنَّ فَاِنَّ الظَّنَّ اَکْذَبُ الْحَدِیْث (صحیح بخاری کتاب الوصایا باب قول اللّٰہ تعالٰی من بعد و صیۃ یوحی بھا اودین)۔نیک نمونہ بن کر دکھائو۔خود پسندی اور خود رائی کے پاس تک نہ پھٹکو۔گھر میں جائو تو تمہارے ماسٹروں کی تاکید ہے کہ چندہ جمع کر کے لائو۔گو میںچندے کے معاملہ میں کسی اور رنگ کا آدمی ہوں۔کیونکہ میں تو سمجھتا ہوں کہ خدا مجھے روٹی دیتا کپڑا پہناتا اور خدا میرے خرچوں کا کفیل ہے اور پھر یہ آخری تاکید ہے کہ کسی کو لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہ