ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 153 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 153

کہ جن کو تقریروں کے لکھنے کا بڑا ملکہ خدا کے فضل سے ہے ا میر المومنین ؓنے لاہور اسی غرض کے واسطے لکھا ہے کہ وہ حرف بہ حرف تمام لیکچروں کو جو کہ اسلام کے خلاف ہوں نقل کر کے لاویں۔ان لیکچروں کے جواب میں خلیفۃ المسیح کا آب زر سے لکھنے کے قابل حکم یہ صادر ہوا ہے کہ اِتَّقُوا اللّٰہ یعنی لاہوری احباب کی درخواست پر حضور نے حکم صادر فرمایا ہے کہ جو مضمون عیسائی بیان کریں ان کو خوب غور سے سنو اور حرف بحرف نقل کرنے کی کوشش کرو اس میں سے جو امور حق ہوں ان کی تصدیق کرو اور جو ناحق ہوں ان کی تردید محض خدا تعالیٰ کے لئے کرو نہ کہ کسی ہٹ دھرمی سے بغرض مقابلہ ومجادلہ۔مومن کا کام ہے کہ وہ ہر ایک سچائی کی تصدیق کرے اگر چہ دشمن سے دشمن کی زبان سے سنے اور ہر ایک باطل کی تردید کرے اگرچہ دوست سے دوست کی زبان سے نکلے۔پس ہماری جماعت کو قرآن مجید کے آگے سر تسلیم خم کرکے زبان اور قلم سے وہی کام لینا چاہیے جو کہ عین حق اور صدق ہو مومن کو کسی کی دشمنی کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔پس یادر کھو کہ ہر ایک سچی بات کو خواہ تم اس کو آریہ کی زبان سے سنو یا عیسائی و موسائی وغیرہ کی، کبھی اس لئے ردّ مت کرو کہ ہمارا یا حق کا دشمن ہے۔اس کی زبان سے حق کا نکلنا یہ بھی حق کی صداقت کی ایک دلیل ہے۔سبحان اللہ ! کیا تعلیم ہے جو اپنی قوم کو اس کا امام جس کا نام نور الدین ہے خدا کی اس پر رحمتیں ہوں دیتا ہے۔ذرا ان مختصر الفاظ کو سوچو جو یہ ہیں کہ ’’ عیسائیوں کے لیکچر سنو جو حق ہو اس کو قبول کرو اورجو باطل ہو اس کی تردید کرو۔‘‘ پھر علمائے حال کے نظارے پیش نظر رکھو جن کا قول یہ ہے کہ جھوٹ کے متعلق مجھے اس قدر یقین ہے کہ اگر وہ دن دوپہر کو دن کہہ دیں تو میں رات ہی کا شبہ کرتا ہوں ‘‘ بہ دل مصداق ہیں اس آیت کریمہ کے کہ (البقرۃ: ۱۱)اور یہ قول ہے ایک بڑے متکبر زبان دراز امرتسری کا جو اس نے مرقع میں لکھا ہے۔مختصر یہ کہ شیخ صاحب انشاء اللہ تعالیٰ ۸؍ دسمبر کو قادیان واپس تشریف لاویں گے اور اپنے مفید اور مبارک سفر کے حالات سے ناظرین الحکم کو مستفید فرماویں گے ان کی عدم موجودگی الحکم کی وقتی اشاعت میں تاخیر کا موجب ہوئی ہے اور یہ پرچہ حسب الارشاد شیخ صاحب ناچیز قاسم علی احمدی جو اپنے امام کے حضور میں آیا ہوا ہے شائع کرتا ہے۔والسلام (الحکم جلد ۱۳ نمبر ۳۶و ۳۷۔مورخہ۱۴؍دسمبر ۱۹۰۹ء صفحہ ۴)