ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 151
نمبر۲۔سلمۃ بن الاکوع کہتا ہے ایک منادی نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ سلم کی طرف سے آیا۔اس نے کہا اُذِنَ لَکُمْ اَنْ تَسْتَمْتِعُوْا (صحیح بخاری کتاب النکاح باب نھی رسول اللہ عن نکاح المتعۃ آخراً) اس روایت میں رَخَّصَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَامَ اَوْطَاسٍ فِی الْمُتْعَۃِ ثَـلَاثًا ثُمَّ نَھَی عَنْھَا(صحیح مسلم کتاب النکاح باب نکاح المتعۃ و بیان انہ أبیح)۔ہم کہتے ہیں کہ عام اوطاس مکہ معظمہ میں بھی آپ نے اجازت دی اور یہ فتح مکہ بعد غزوہ اوطاس کے ہے مگر انبیاء و رسل علیہم الصلوٰۃ والسلام جب تک کوئی حکم الٰہی نہ آوے کسی کو کسی فعل سے نہیں روکتے یہ سب رخصتیں اور اذن اور خاموشیاں اِنِّی قَدْکُنْتُ اٰذَنْتُ لَکُمْ فِی الْاِسْتِمْتَاعِ مِنَ النِّسَائِ اِنَّ اللّٰہَ قَدْ حَرَّمَ ذٰلِکَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ (صحیح مسلم کتاب النکاح باب نکاح المتعۃ و بیان انہ أبیح)سے ہباء منثور دھول کے ذرات کی طرح اڑ گئیں اِذَا جَائَ نَھْرُ اللّٰہِ لِبَطَلَ نَھْرُ مُعْقَل (مجمع الامثال الباب الاوّل فیما اولہٗ ہمزء آنس من اللطیف و من الحمیٰ)کسی معقل آدمی نے ایک نہر بنائی اس پر ایک قدرتی نہر آگئی۔عرب میں مثل بن گئی معقل کی نہر الٰہی نہر کے آنے سے تباہ ہوگئی۔وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔اللہ تعالیٰ کا بیان اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیان میں کیسی صفائی ہوتی ہے اور کسی طرح قطعاًاختلاف نہیں ہوتا۔کیا دنیا کے پردہ پر کوئی مرفوع متصل حدیث ہے جس میں کہا ہو قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ اَذَنَ اللّٰہُ لَکُمْ فِیْ مُتْعَۃِ النِّسَائِنہیں اور ہر گز نہیں اور ہر گز نہیں وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔قرآن کریم کے فہم میں متعۃالنساء تجویز کرنے والوں کی غلطی۔کہتے ہیں۔الخ(النّسآء :۲۵) سے صاف متعۃالنساء ثابت ہوتا ہے۔سو عرض ہے کہ بیان(النّسآء :۲۴) میں محرمات جن سے نکاح منع ہے ان کا بیان پھر(النّسآء :۲۵)سے جو حلال نکاح ہے اس کا بیان ہے۔پھر یہاں فرمایا ہے کہ اگر ان سے تم نے فائدہ اٹھا لیا تو پورا مہر ان کا دینا لازم ہے۔یہاں دنیا کے کسی قرآن میں میعادی نکاح کا ذکر نہیں نیز منکوحات پر اس کلام کا کلمہ فا کے ذریعہ ربط لگا دیا ہے۔