ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 150 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 150

تردید متعۃ النساء کے لئے وجدانی دلیل ہر ایک شریف الطبع بھلا مانس شریف قوم کا امیر آدمی اپنی جگہ سوچے کہ متعۃ النساء آخر عورتوں کے ساتھ ہوگا اگر شرعاً متعۃالنساء جائز بلکہ کار ثواب ہے تو آخر بدوں عورت کے نہ ہوگا۔پھر ایک آدمی کسی کی بہو، بیٹی، بہن سے نکاح میعادی کر سکتا ہے اور کرتا ہے تو اس کی اپنی بہن، بیٹی، بہو، امّاں بھی کر سکتی ہے اور کرتی ہے اور نکاح میں تو اظہار ہوتا ہے اخفا نہیں ہوتا۔پھر یہ بڑے شریف کیا مجالس میں کہہ سکتے ہیں کہ ہماری اماں اور بیٹیوں اور بہنوں نے اپنے متعے کئے ہیں۔میں اپنے وجدان پر اس کو لاجواب دلیل مانتا ہوں اور مجھے یقین ہے مجالس میں جیسے ازدواج تزویج صریح مبارک یقین کی گئی ہے ایسے متعہ کے متعلق عورتیں اس مبارکباد کو برداشت نہ کر سکیں۔احادیث صحیحہ اور آیات کریمہ کے سمجھنے میں جو قائلین متعہ کو غلطیاں لگی ہیں اوّل بعض احادیث میں متعۃ الحج کا ذکر آیا ہے اورجو صحابہ کرام عمرہ اور حج کرتے دونوں مناسک کی جمع متعہ کہتے تھے جیسے جابر بن عبد اللہ اپنے حالات میں لکھتاہے کہ جب میں عمرہ کرنے لگا تو کسی نے مجھے روکا تو میں نے اسے اِسْتَمْتَعْنَاعَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ(صحیح مسلم کتاب النکاح باب نکاح المتعۃ و بیان انہ أبیح)سنایا۔لفظ اِسْتَمْتَعْنَا کو سن کر خوش پر ستوں کو غور کا موقع نہ ملا جھٹ متعۃ النساء اس کے معنی کر دئیے۔شہوت پرستی میں حُبَّکَ الشَّیْئَ یَعْمٰی وَ یَصُمّ(سنن ابی داؤد ابواب النوم باب فی الھوٰی)۔دوم عبد اللّٰہ بن مسعوداور سلمہ بن الاکوع سے احادیث میں چند روایات ہیں جن کے الفاظ ذیل میں درج ہیں۔أَنْ نَّنْکِحَ الْمَرْأَۃُ بِالثَّوْبِ اِلٰی أَجَلٍ (نیل الاوطار کتاب النکاح باب ما جاء فی الزوجین یوکلان واحد فی العقد)ہم ایک کپڑا دے کر میعادی نکاح یا جماع کر لیتے۔اس میں صحابی اپنے ایک فعل کا ذکر کرتا ہے جیسے وہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم شراب پی لیا کرتے تھے یا بت پرستی کر لیا کرتے تھے یا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا مقابلہ ہم نے کیا۔پھر یہ فعل بمقابلہ اِنَّ اللّٰہَ قَدْ حَرَّمَ ذٰلِکَ کے کیا ہستی رکھتا ہے۔