ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 147
اخبارات میں یہ مضمون دے دیا تو کوئی نہ کوئی نفع اٹھائے گا۔عزیز من!امراء کے لئے آج کل کوئی شریعت نہیں رہی اور نیز ان پر کوئی شرع کا حاکم نہیں رہا۔عام علماء گویا ان کے قبضہء قدرت میں ہیں جو روایت چاہیں ان سے لے لیں۔ہاں جن سے ان کی دنیوی امید و بیم وابستہ ہے وہ ان کی حکومت کے حاکم ہیں۔عزیز من! میرا اعتقاد ہے کہ اور میرا پختہ یقین ہے کہ عقل صریح جس کے ساتھ وہم نہ ہو اور نقل صحیح بشرطیکہ وہ نقل اسلامی نقل ہو اور شارع اسلام سے ہو۔ان میں باہم تعارض اور تضاد ہرگز نہیں ہوتا بلکہ نہیں ہو سکتا۔عزیز من!انبیاء و رسل علیہم الصلوٰۃ و السلام والبرکات کے حالات پر غور کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ لوگ اپنی طرف سے کوئی امر اور نہی پسند نہیں فرماتے۔لوگ کفر کرتے، شرک کرتے، شراب پیتے، لوٹتے، کسی کو تازمانہ بعثت اوامر و نواہی کے رنگ میں مکلف نہیں فرماتے جب تک کہ کوئی حکم تبلیغ ان کے نام بخصوصیت ثابت و ماعبث نہ ہو۔مکہ میں شرک ہوتا تھا مگر جب تک(المدّثر :۲، ۳) نازل نہ ہوا آپ نے کسی کو نہ روکا۔پھر وہ لوگ شراب پیتے تھے جب مدینہ طیّبہ میں تشریف لائے اور جنابِ الٰہی سے حکم آیا منع فرمایا۔حجاب ازواج کے لئے بعض اصحاب نے بار بار عرض کیا مگر تاصدور حکم الٰہی حجاب کا حکم نہ دیا بلکہ یہ مقدس جماعت بلا اجازت دُعا بھی کرے تو ان کو مشکلات پیش آجاتے ہیں۔حضرت نوح علیہ السلام کی دُعا پر جو ارشاد الٰہی ہوا اس کلام پاک سے ظاہر ہے (ہود :۴۷) یہ مقام غور ہے۔پھر ان کے زمانہ میں کسی نے متعہ کیا تو کیا اگر کسی نے عرض کیا کہ کیا مجھے اجازت ہے تو جب تک حکم الٰہی نہ آیا اجازت و رخصت فرما دی تو کیا۔مرد آخر میں مبارک بندہ ایست اسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ٍ (الحشر :۱۹) جب کوئی چیز ثابت و موجود ہوتی ہے تو اس کے لوازم بھی ساتھ ساتھ ہی ہوتے ہیں سورج طلوع ہوا تو نہار کا وجود ضروری ہوا۔کوئی عقلمند آدمی غور کرے یہ کنچنیاں محب اہل بیت اور ان