ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 140 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 140

نہ نجوم است و نہ رمل است و نہ خواب وحی حق وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَاب از پئے روپوش عامہ در بیان وحی دل گویند آن را صوفیان یہاں سب کچھ کہہ لیا ہے اور مولوی لوگوں کے ڈر کا ذکر بھی فرما دیا۔اگر آپ سن سکیں تو میں ۱۲مسلّم الثبوت اولیاء کے کلام سے یہ لفظ صاف صاف آپ کو دکھاسکتا ہوں۔یہ آپ نے کس طرح ارشاد فرمایا کہ تیرا سوبرس سے کسی نے ایسا لفظ نہیں بولا۔مکر م من ! میں اس آیت کریمہ کا و خاتم النبیین کے معنے لکھنے کو تیار ہوں مگر آپ کا حوصلہ دیکھ لوں کہ میرا یہ عریضہ کیا اثر کرتا ہے کیونکہ بات بہت سید ھی اور صاف ہے۔میں اب قبل اس کے کہ اس عریضہ کو ختم کروں اور آپ کو یقین دلائوں کہ آیت کریمہ خاتم النبیین کے صاف اور سیدھے معنی عرض کروں گا۔مگر اس خط کے جواب کا انتظار کروں گا۔اتنا عرض کر دینا شائد نامناسب نہ ہو گا۔ایک مشہور کلام کُنْتُ نَبِیًّا وَ آدَمُ بَیْنَ الْمَائِ وَالطِّیْن (تفسیر الرازی الجزء السادس تتمہ سورۃ البقرۃ آیت نمبر۲۵۳)سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے نبی کریمؐ آدم سے پہلے نبی تھے اور نبی تھے تو خاتم الانبیاء ہی نبی تھے اور یہی حق ہے وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔نیز احادیث صحیحہ بلکہ قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے کہ دیوانہ پاگل جن کو جنگلوں بیابانوں جزائر میں نبیوں کی خبریں نہیں پہنچیں اور بہرہ جو پیدائشی ہیں سو عذر کریں گے۔الٰہی ہم نے تو تیرا حکم سنا نہیں تھا اس میں لڑکے بھی عذر کریں گے کہ تیرا ارشاد ہے(بنی اسرائیل:۱۶)۔تو اس وقت کیا ہوگا۔ایک دلچسپ بیان ہے جو انشاء اللہ و خاتم النبیین کے پاک اور سچی اور حق کلام کے مطابق ہے۔والسلام نور الدین