ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 141 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 141

ہمارے ایک بزرگ سید دوست نے فرمایا کہ یہ مرید کا کلام ہے پیر کا نہیں۔میں نے عرض کیا صاحب مثنوی کا قول ایک طرف احمدی لوگوں کے کلام کو ایک طرف رکھ کر دیکھ لو۔احمدی مولوی روم کے برابر تو ان کو مان لو۔مگر ایک شعر خواجہ معین الدین چشتی کا ان کو سنا دیا۔آپ کو بھی سنا دیتا ہوں۔حضرت خواجہ فرماتے ہیں۔دم بدم روح القدس اندر معینے مے دمد من نمے دانم مگر عیسیٰ ثانی شدم والسلام نور الدین ۳۱؍جولائی ۱۹۰۹ء (البدر جلد ۸ نمبر۴۸مورخہ ۲۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء صفحہ ۳) مکتوب مکرم حکیم صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ انسان تمام عناصر کا مجموعہ ہے اس کے متضاد اجزاء میں رُوح و قلب کے ساتھ نفس امّارہ اور اس کے وساوس بھی ساتھ رہتے ہیں اور ان کے معین و مددگار شیاطین بھی تیار رہتے ہیں اگر موقعہ پاویں۔ہر ایک ملک کے متعلق ایک خاص تحریک نیکی کی ہوتی ہے ہر ایک نیکی کا محرک خاص ملک ہوتا ہے اور اس سلسلہ ملائکہ کا اعلیٰ افسر جبرائیل ہے علیہ السلام۔اسی واسطے نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں۔اُعْطِیْتُ جَوَامِعَ الْکَلَمِ (صحیح مسلم کتاب المساجد مواضع الصلٰوۃ)اور قرآن مجید میں ہے کہ وہ مہیمن ہے۔جب بادشاہ کسی جگہ نزول فرما وے تو اس کے متعلق جاہ و چشم ساتھ ہونا لازم اور ضروری ہے اور جامع وحی کے دشمن بھی بہت ہوتے ہیں اس لئے ان کے دفع کے لئے عالم اسباب میں وہی روحانی قانون الٰہی ہے جو عالم اجسام میں ہے۔عالم اجسام میں امر جامع سلطان جبرائیل کا۔جس