ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 13
اب بھلا تم ہی اے دشمنانِ مسیح اور مکذّبان مرسل خدا ! ذرا انصاف سے بتاؤ کہ کیا یہی علامات ہیں جن سے تم نے ایک فنا فی اللہ اور فنا فی الرسول پاکباز کے حق میں حبّ دنیا اور جاہ طلبی کے فتوے دیئے ہیں ( یٰسٓ : ۲۷) پس یقین جانو کہ جس رنگ میں اس صادق انسان کے حالات میں اور طرز زندگی میں غور کرو گے اور آپ کی لائف کا جوورق بھی الٹو گے اسی میں لکھا ہوگا کہ آپؑ ضرورت حقہ کے وقت آئے اور صادق تھے مصدوق ہوئے اور عین وقت پر اپنا تمام کام پورا کر کے رفیق اعلیٰ میں جا ملے۔پس ہم دل سے دعا کرتے ہیں۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی خُلَفَآئِ مُحَمَّدٍ۔)عبدالرحمٰن قادیانی)۔(الحکم جلد۱۲ نمبر ۴۵ مورخہ ۲؍اگست۱۹۰۸ء صفحہ۴) ایک بزرگ کا امراء سے پیسے لے کر غرباء کو دینے والی حکایت حضرت خلیفۃ المسیح اکثر اپنے درس اور وعظ میں ایک مفید نتیجہ خیز اور پُر مغز حکایت بیان فرمایا کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ ایک بزرگ جو کہ بڑے باخدا اور کامل انسان تھے۔ان کا یہ دستور تھا کہ وہ اکثر اپنے شہر کے امرا کے ہاں چلے جاتے اور ان سے چند پیسوں کا سوال کرتے مثلاً آج ہمیں کی یا کی سخت ضرورت ہے آپ دے ہی دیں۔ان کی وجاہت اور ایسی خفیف سی رقم لوگ عموماً ان کو دے ہی دیا کرتے تھے۔ان کا یہ کام تھا کہ ان سے لے کر باہر نکلے اور کوئی محتاج سائل فقیر سامنے آیا تو جو کچھ ملا اس کو دے دیا۔ان کے کسی مرید یا شاگرد کو ان کے اس طرز عمل کی خبر ہو گئی کہ پیر صاحب لوگوں سے سوال کیا کرتے ہیں اور وہ بھی نہایت ایک حقیر سی رقموں کا۔وہ اس ٹوہ میں لگ گیا۔خدا کی شان ایک دن وہ شاگرد اس مطلب کے واسطے ان کے پیچھے ہو لیا مگر ان کو خبر نہ تھی۔چنانچہ انہوں نے ایک شخص سے سوال کیا اس دن اس نے ان کو جھڑک دیا اور نہایت ترش روئی کی مگر آخر ان کے اصرار اور الحاح سے اس نے کچھ پیسے ان بزرگ کو دے ہی دئیے۔شاگرد یا مرید جو کچھ بھی کہ وہ تھا اس کو یہ امر نہایت شاق گزرا اور پھر یہ معلوم کر کے کہ وہ پیسے انہوں نے باہر نکلتے ہی ایک سائل کو دے دئیے ہیں جو کہ