ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 14 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 14

ایسی لجاجت اور ایک طرح کی بے شرمی سے انہوں نے حاصل کئے تھے۔اس کی حیرت اور بھی بڑھ گئی اور اس راز اور حقیقت کے معلوم کرنے کے لئے اور بھی خواہش مندہوا۔وہ بزرگ جو کہ اس کے پیرو مرشد یا اُستاد تھے۔ا پنے مکان پر پہنچے تو اُس نے اس راز کی عقدہ کشائی چاہی اور سارا ماجرا بیان کر دیا کہ میں بھی اس کے ساتھ ساتھ ہی تھا۔آپ میرے واسطے اس عقدہ کو حل فرما دیں کہ یہ کیا بات ہے کہ آپ ایسے بزرگ پاک نفس، خدا رسیدہ انسان اس طرح کی ذلت گوارا کریں اور پھر اس کے نتیجہ سے کوئی ذاتی فائدہ بھی نہ اٹھائیں اور ایسا ایک عبث فعل کریں۔یہ آپ کی شان کے شایان نہیں۔آپ مہربانی فرما کر مجھ پر یہ عقدہ کھول دیں اور اس راز سے مجھے آگاہ فرما دیں۔وہ بزرگ اس کی اس کارروائی پر بہت متعجب ہوئے اور اپنے افشائے راز ہو جانے سے بہت گھبرائے ……… آخر اس کے اصرار کی وجہ سے اس سے یوں مخاطب ہوئے۔’’دیکھو میں اس شہر میں رہتا ہوں اور یہ لوگ میرے اہل شہر ہونے کی وجہ سے میرے ہمسائے ہونے کا حق رکھتے ہیں۔شریعت الٰہیہ میں جہاں جہاں حق اللہ کی ادائیگی کے واسطے تاکیدی احکام نافذ فرمائے ہیں وہاں حق العبادکا ادا کرنا ایک بہت بڑا بھاری جزو ایمان قرار دیا ہے اور پھر حق ہمسائیگی کی اور بھی خصوصیت بیان ہوئی ہے۔لہٰذ ااُن لوگوں کے بوجہ میرے ہمسایہ ہونے کے مجھ پر بہت سے حقوق واجب الادا ہیں۔سو ان حقوق کی ادائیگی اور بجاآوری کے لئے میں نے یہ راہ اختیار کی ہے۔تم جانتے ہو کہ انسان ایک کمزور اور ضعیف الخلقت ہستی ہے اور اس سے کمزوریاں ، سُستیاں کوتاہیاں اور غفلتیں ہو ہی جاتی ہیں۔خصوصاً یہ لوگ جو بڑے بڑے امراء اور رئوسا ہیں یہ تو ایسی غفلتوں میں اکثر مبتلا رہتے ہیں اور ہر کمزوری یا غفلت کا لازمی نتیجہ کچھ دکھ ، درد، بیماری یا مصیبت وغیرہ ہوتا ہے۔پس میں نے ان کی حالت پر رحم کھایا اور ان کی ہمدردی نے مجھے اُکسایا کہ میں ان سے کچھ لے کر غرباء، فقراء اور مساکین کو دوں۔تا وہ صدقہ ان کی بعض غفلتوں کی تلافی کرتا رہے اور ان پر آنے والے مشکلات کے لئے وہ صدقہ سپر ہو جایا کرے۔میں ان سے کچھ نہ کچھ گاہ گاہ وصول کر کے