ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 131 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 131

دین و دنیا کا آ کر پڑے۔۲۔باہمت واعظ مطلوب ہیں جو اخلاص و صواب سے وعظ کریں۔۳۔عاقبت اندیش صرف اللہ پر بھروسہ کرنے والے دعائوں کے قائل اور علم پر نہ گھمنڈ کرنے والے علماء مطلوب ہیں جن کو فکر لگی ہو کہ کیا جاوے۔کہ کیا کیا جاوے کہ اللہ راضی ہو جائے اور ایسے اکسیر لوگ کم نظر آتے ہیں۔فَمَا اَشْکُوْا اِلَّا اِلَی اللّٰہِ۔(الحکم جلد ۱۳ نمبر۲۸ مورخہ ۷؍اگست ۱۹۰۹ء صفحہ ۱، ۲) کلام امیر المومنین دو سوالوں کے جواب سوال نمبر۱۔لفظ سیئہ عربی میں کس قسم کی بدی پر بولا جاتا ہے اور (الشورٰی: ۴۱) سے کیا اس قسم کی بدی کر لینے کی اجازت ثابت ہے جس قسم کی بدی کوئی پہلے ہم سے کرے۔سوال نمبر۲۔آیت  الخ(بنی اسرائیل:۱۱۱) سے کیا یہ بھی ثابت ہو سکتا ہے کہ تمام نماز کو بآواز بلند نہ پڑھو اور نہ ہی تمام کو بالکل خاموشی کی حالت میں پڑھو بلکہ کچھ نماز کا جہری اور کچھ آہستہ جیسے کہ تعامل اسلام سے ثابت ہے۔جواب بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ نمبر ۱۔تمام وہ چیزیں جو انسان کو غمگین کر دیں سیئہ ہیں۔امور دنیویہ ہوں تو، نفسانیہ خیالات ہوں تو، خارجیہ امور ہوں تو۔مثلاً مال ضائع ہو یا جاہ و جلال جاتا رہے کوئی یارو مددگار نہ رہے۔نمبر۲۔ہر ایک آفت اور قبیح امر سیئہ ہے پھر قباحت عقلیہ ہو یا شرعیہ یا جس کو انسانی بناوٹ