ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 130 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 130

خلیفۃ المسیح کیا چاہتے ہیں جماعت کے لئے پیغام مجھے(ایڈیٹر) ایک مختصر سے سفر کے لئے آج حضرت خلیفۃ المسیح کے حضوراجازت کے لئے جانے کی ضرورت پیش آئی اور میں آپ کے حضور حاضر ہوا۔میں نے اپنی منزل مقصود کی جماعت کے لئے کوئی پیغام پوچھا۔فرمایا۔میرا پیغام تو ایک ہی ہے۔خدا سے ڈر اور پھر کچھ کر۔کلمہ طیبہ فرمایا۔ایک شخص نے مجھ سے پوچھا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ نے کوئی نیا کلمہ بنایا ہے میں نے کہا ہاں۔اس نے کہا ایسی عجیب بات تو میں سننی چاہتا ہوں۔میں نے اس کو کہا آنحضرت ﷺنے بھی کوئی کلمہ ایجاد کیا تھا اس نے جواب دیا ہاں۔پھر میں نے پوچھا کہ اس وقت سب سے بڑی بلا کیا تھی؟ اُس پر اُس نے کہا کہ شرک۔میں نے کہا یہی وجہ تھی کہ آپ نے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کلمہ تجویز کیا۔اور دوسری آفت نبوت کی پرستش تھی جیسا کہ حضرت مسیح کو خدا بنایا گیا اس لئے دوسرا جز و محمد رَسُوْلُ اللّٰہ تجویز ہوا۔زمانہ کی خطرناک آفت کے لئے امام وقت کی تجویز اس زمانہ میں ایک خطرناک آفت ہے۔اس آفت کے لئے اس وقت ایک کلمہ کی ضرورت ہے بس اس کے حسب حال ہمارے امام نے ایک کلمہ رکھا۔اس کو جو تمہارا جی چاہے کہو۔وہ آفت دنیا کو دین پر مقدم کرنے کی ہے اس لئے حضرت امام نے یہ تجویز کیا کہ وہ اپنی جماعت سے عہد لے کہ ’’ میں دین کو دنیا پر مقدم کروں گا ‘‘ پھر اسی سلسلہ میں فرمایا کہ مجھے تو عملی حالت کی اصلاح کی ضرورت ہے۔پس یہی پیغام ہے جس کو چاہو دے دو۔مطلوب احباب پھر آپ نے اور بھی بہت کچھ فرمایا جن پر توفیق ملنے پر لکھوں گا بالآخر آپ نے مجھے لکھ کر دیا۔۱۔قوم میں دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے مطلوب ہیں جن کو دنیا کی پروا بھی نہ ہو جب مقابلہ