ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 132
بوجھل سمجھے اور اسے طبیعیہ کہتے ہیں۔غموم کے آثار، شرم گاہ، گند ، مکروہ افعال، ناپسند اقوال،شکست پانا، جنگ ، ہلاکت ، فساد ، ضرر ، آگ،خطا اور ضعف بصر کو سوء کہتے ہیں۔سیئہ کی جزا کو سیئہ اس لئے کہتے ہیں کہ اگر وہ جزائً نہ ہوتی تو سیئہ تھی۔سیئہ کی جزاء… کبھی حکام و سلاطین دے سکتے ہیں مثلاًچور، زانی ، ڈاکو وغیرہ کی سزائیں۔ہر ایک کو اجازت نہیں۔بعض سزائیں تاجر دے سکتے ہیں مثلاً لین دین میں جو شرارت کرے اس کو آئندہ دیتے نہیں یا اس سے لیتے نہیں۔مؤدب اساتذہ لڑکوں کو تنبیہ کرتے ہیں۔بعض سیئات کی سزا اللہ تعالیٰ دیتا ہے مخلوق کا کام نہیں کہ جزا دے۔غرض یہ باب بہت بڑا وسیع ہے ہر ایک کو بدی کی جزا دینا شرعاً جائز نہیں۔(بنی اسرائیل:۱۱۱)کے معنے آپ نے جو کئے ہیں وہ بجائے خود صحیح ہیں اور بالکل صحیح ہیں مگر نماز تہجد کے ساتھ علماء نے چسپاں کئے ہیں اور تفاسیر میں لکھا ہے۔والسلام نور الدین ۲۶؍جون ۱۹۰۹ء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کنچنی کی بنوائی ہوئی مسجد ایک شخص نے دریافت کیا کہ کنچنی کی بنوائی ہوئی مسجد میں نماز پڑھنا جائز ہے یا کہ نہیں؟ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ جو جگہ نماز پڑھنے کے واسطے الگ کی گئی ہے یابنائی گئی ہے اس میں نماز پڑھنا جائز ہے کوئی ممانعت نہیں۔باقی رہا یہ امر کہ بانیہ مسجد کو اس کے اس فعل کا ثواب ملے گا یانہیں اس امر کو خدا تعالیٰ پر چھوڑنا چاہیے۔ہمیں کیا ضرورت ہے کہ اس امر پر رائے زنی کریں۔قبر پر پھول چڑھانا ایک شخص نے دریافت کیا۔کیا میت کی روح کو خوش کرنے کی نیت سے قبر پر پھول چڑھانا جائز ہے ؟