ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 129
بار بار ان کو لوگوں نے مار ا چوری کے الزام لگائے۔ہم ہمیشہ صبر سکھاتے رہے جب شرارت حد سے بڑھنے لگی شرارت کے خوف سے اپنی مسجد بنا لی اور لکھ دیا کہ کسی کو مت روکو۔آپ نے اس کا نام آخر شرارت رکھا۔اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ کی لڑکیاں ہماری لڑکیاں ہیں ہمیں پردہ کا خود خیال ہے آپ ہرگز فکر نہ فرماویں یہ مسجد ضرارو تفریق کے لئے ……نہیں بلکہ ضرر سے بچنے صلح کے رکھنے کے واسطے آخرالحیل تجویز کی ہے۔آپ نے ہمارا ایک مشترکہ مکان بدوں ہماری اطلاع کے بااینکہ ہم بحمد اللہ مفلس نہیں تھے خرید فرمایا۔کیا یہ صلح ہے اور شرارت سے پُر نہیں۔لَا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہَ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہآپ خوب غور کریں ہم نے مسجد کا راستہ ایسا نہیں رکھا کہ … بے پردگی ہو۔ہاں ہمیں آپ بتا دیں کہ ہم کیا کریں۔مسجد تو آپ لوگوں اور آپ کے فتوئوں نے ہم سے لی اب ہم اپنا مکان مسجد بنا دیں تو ہم شریر۔آہ ! یہ اسلام ہے۔سو چو اور کسی بھلے مانس مسلمان سے مشورہ فرما کر جواب دو۔باقی رہی برادری سو آپ خود اس کا انصاف فرماویں۔اتنا کہوں گا کہ آپ قریشی مانے ہوئے ہیں اور ہم جو ہیں سو ہیں اس پر بھی انصاف آپ پر ہے۔مولوی صاحب اتنا بڑا سہ منزلہ عظیم الشان باپ دادا کا مکان کوئی ضائع کرتا ہے… شرارت سے بچنے کے لئے جب کوئی راہ امن اور ضرر اور تفریق سے بچنے کے لئے نظر نہیں آئی تویہ تجویز سمجھ میں آئی۔آپ چاہتے ہیں کہ ہماری جماعت متفرق ہو جاوے۔گویا اس محلہ میں ہم لوگ اللہ کا نام بھی نہ لیں۔اللہ اللہ ثم اللہ اللہ ثم اللہ اللہ کچھ خوف بھی ہے اور پھر ہم شریر (یوسف:۶۵) میں کیا عرض کروں آپ کی عمر میرے سے زیادہ ہے آپ کے بھائی آپ سے چھوٹے تھے وہ فوت ہو گئے۔میں نے مرنا ہے یہ مکان اور مکانات ہمارے ساتھ کوئی نہ جاوے گا۔( البدر جلد۸ نمبر۴۱ مورخہ ۵؍اگست ۱۹۰۹ء صفحہ ۲)