ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 128 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 128

تو خان صاحب فرماتے ہیں جا کاپر ہم بھی نہیں جانتے مسلمان کس طرح ہوتا ہے۔نور الدین (البدر جلد۸نمبر۴۰مورخہ ۲۹؍جولائی ۱۹۰۹ء صفحہ ۳) مسجد احمدیہ بھیرہ حضرت خلیفۃ المسیح نے جو اپنا بھیرہ والا مکان مسجد بنانے کے واسطے ہبہ کر دیا ہے اس کے متعلق ایک شخص غیر احمدی نے بدظنی کا خط لکھا۔جس پر حضرت نے مفصلہ ذیل جواب دیا۔حضرت مولوی صاحب ! یہ خاکسار ہمیشہ بدِل شرارت سے بہت متنفر ہے اور شرارت کا خیال دل میں نہیں آتا۔میرا باپ اور دادا بھی شرارت کو بہت برا جانتے تھے۔یہ میراعلم ہے جس کو عرض کیا ہے۔اللہ تعالیٰ رحیم کریم اصل حال سے واقف ہے اور کون جانے آپ کو میری صحبت اور بھائیوں کی صحبت نہیں رہی وہ لوگ شرارت پسند نہ تھے۔میری ماں میری دادی میری بہنیں بس جہاں تک مجھے علم ہے سب شرارت سے متنفر تھے۔وَالْحَمْدُ لِلّٰہ میں بدِل لَااِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہَ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ کا قائل ہوں۔نماز پڑھتا ہوں روزہ رکھتا ہوں زکوٰۃ دیتا ہوں حج دوبار کیا ہے ہزاروں کو قرآن شریف سنایا اور قرآن کریم کی طرف بلایا۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔اس وقت میرے لاکھوں مرید ہیں۔سب قریشی، مغل، پٹھان، شیخ کسی کو شرارت کی تعلیم نہیں کرتا۔ہماری جماعت نسبتاً شر سے بچتی ہے اپنا نقصان کر لیتے ہیں مگر شر سے پرہیز رکھتے ہیں۔ہاں سب ایک جیسے نہیں مگر نسبتاً پابند صلوٰۃ، زکوٰۃ و صوم وغیرہ ہیں۔میرے ساتھ جب بھیرہ والوں نے شرارت کی میں اکثر نماز یں مکان پر پڑھتا تھا اور مسجد کو شرارت گاہ نہ بنایا۔(البقرۃ:۱۱۵) ہر وقت سامنے رہتا ہے۔ہماری جماعت کے لوگ زنا کرنے مسجد میں نہیں جاتے تھے۔لڑنے کو نہ جاتے تھے