ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 127
بیچارے ابن عساکر کے کہنے یا روایت پر اگر ناقص قرار دیا جاوے تو پھر اسلام کے پاس رہا کیا۔احادیث کا یہ حال ہے کہ شیعہ کے نزدیک وہ لوگ جو ابوبکر و عمر کو ماننے والے ہیں کافر، غاصب، ظالم، مرتد اور دنیا پرست تھے۔پھر ان کی احادیث کا کیا اعتبار۔رہے مولیٰ مرتضیٰ اور ان کے ساتھ والے ان کو تقیہ ضرور تھا۔تقیہ والے کا پتہ کیا کہ اس کے اندر کیا ہے اور منہ سے کیا کہتا ہے۔قرآن و حدیث جب دونوں باطل تو اسلام کیا۔علاوہ بریں اس ابن عساکر کو دیکھا کس نے کہ کون ہے اور اس کی کتاب کیسی ہے۔ایسی واہیات روایت سے مومن کو کیا تعلق ؟ والسلام نور الدین ۳۱؍مئی ۱۹۰۹ء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(۳)السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا مینار بن جاتاتو یہ لوگ مان لیتے۔ایک مینار کیا صدہا پیشگوئیوں کو نہیں مانا۔مینار کے لئے ایک وقت مقرر و مقدر ہے خدا کے کاموں سے ہر ایک کو اطلاع پانا ضروری نہیں۔نور الدین ۲۰؍اپریل ۱۹۰۹ء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(۴)عزیز من ! پہلے تم خود اسلام کے واقف ہوتے پھر اسلام کی طرف بلاتے تو دعوت الی الحق ہوتی۔ایک پٹھان نے ایک ہندو سے کہا۔کاپر، مسلمان ہو جا۔جب اس ہندو نے کہا کہ کس طرح مسلمان ہو جائوں۔