ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 126 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 126

علی گڑھ میں یہ اعتراض احمدی لڑکوں پر ہوا جب میں نے یہ جواب دیا تو ناظمان مدرسہ نے پسند فرمایا۔عزیز من ! میرے بزرگوں کی مسجد بمقام بھیرہ ضلع شاہ پور تھی وہاں احمدی غیر احمدی محلہ میں رہتے تھے۔ہم نے بہت کوشش کی کہ صلح سے رہیں مگر صلح نہ ہو سکی آخر ایک تھانیدار صاحب تشریف لائے جو احمدیوں کے مخالف تھے انہوں نے لوگوں کو اُکسایا نوبت پہنچی کہ مچلکہ ہوئے مگر فساد کم ہوا۔مجھے جب یقین ہو گیا کہ فساد رفع نہیں ہوتا تو میں نے اپنی ایک حویلی جو مسجد کے متصل تھی اس کو گرا کر مسجد بنوا دی اور اس طرح فساد کو مٹایا مگر اب ایک احمدی ڈاکٹر جو وہاں گئے تو ان پر یہ حسن ظن والے انگریزی میں عرضیا ں دیا کرتے ہیں کہ یہ ڈاکٹر ایسا ہے ایسا ہے۔عزیز من !مسلمانوں میں شائد اتفاق ان کے ملک میں ہو گا ان کے بہادر مولوی اور درویش تو اتفاق کے غالباً بَدِل دشمن ہیں۔رہے امراء اور گریجوایٹ الا ماشاء اللہ ان کے لئے سب کچھ مباح ہے جو ان کے دماغ میں آجاوے وہی صحیح اور مرضی الٰہی ہے نیچر کے مطابق ہے آزادی کی اس پر مُہر ہے قوم کے مناسب حال ہے۔یہ مختصر الفاظ اگر آپ کے مفید ہوں تو بہتر وَ اِلاَّ پھر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو عرض کروں گا۔ہاں میرے عزیز اکمل۱؎ نے بھی اس پر لکھا ہے آپ پڑھ لیں۔نور الدین ۱۹؍جولائی ۱۹۰۹ء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(۲)جناب شاہ صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ابن عساکر کیا چیز ہے کہ اس کے کہنے پر قرآن کریم کو ناقص مانا جاوے۔قرآن کریم بنو امیہ کے پاس ملک ہسپانیہ میں ، قرآن کریم بنو عباس کے پاس بغداد میں، قرآن کریم خوارج کے پاس زنجبار اور مسقط میں، قرآن کریم سنّیوں ، وہابیوں ، صوفیوں غرض مسلم و کافر کے پاس ایک ہی ہے۔پس ۱؎ اکمل صاحب کا جواب کسی آئندہ اخبار میں شائع ہو گا۔