ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 125 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 125

محمدرسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی کیا ضرورت تھی؟ اس پر آپ غور فرماویں۔پھر آریہ کہہ سکتے تھے کہ ہمارے ملہم تو تم لوگوں کے مواعظ سے پہلے کے ہیں ہمیں تمہارے مقتدائوں کی کیا ضرورت ہے کیا پہلے مُر سل کا معاہدہ کافی نہیں ؟ عزیز من! بیعت صرف معاہدہ ہی نہیں ہوتا جیسا آپ کا خیال ہے بلکہ اللہ تعالیٰ ایک شخص کی وجاہت، سیادت، بڑائی چاہتا ہے جیسے دنیوی بادشاہت یا کسی انجمن کے صدر کی عزت ہوا کرتی ہے۔پھر جو شخص اس اعزاز کی خلاف ورزی کرے وہ اللہ کا مقابلہ کرے۔ماموروں کے خلفاء سب ایک حیثیت رکھتے ہیں اگر مامور صادق را ستباز ہے تو اس کا جانشین اُسی اصل کا حکم رکھتا ہے سورۃ نور میں صاف آیت خلافت کے بعد اللہ تعالیٰ منکرانِ خلافت کو فاسق فرماتا ہے۔اقتدا ء نماز کے متعلق آپ کے سوالات کو پڑھ کر مجھے بہت تعجب آیا اور یقین ہوا کہ آپ دنیا سے، دنیا کے معاملہ سے ، انتظام سے ، حالات سے بالکل علیحدہ کسی مرنج و مرنجان کوٹھڑی میں رہتے ہیں۔اپنا کوئی فرض منصبی ادا کیا کوئی منشاء کے مطابق رسالہ پڑھا اور سو رہے۔عزیز من ! ایک شخص قریباً چالیس برس مدعی رہا کہ مجھے مکالمہ الٰہیہ ہوتا ہے اور آج مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے ایک بار نہیں ہزاروں بار اور بہتوں کو یقین کرا دیا کہ مجھے وحی اور الہام ہوتا ہے۔پھر اگر یہ شخص مفتری و کذاب ہے تو اللہ تعالیٰ کے حضور اس سے زیادہ کوئی شریر اور بدکار نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (العنکبوت:۶۹) مفتری سے زیادہ کون ظالم ہے۔اور اگر وہ شخص فی الواقعہ صداقت پر ہے صادق ہے راستباز ہے تو پھر اس سے زیادہ کون ظالم ہے جو اس کے الہامات کا منکر ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے(العنکبوت:۶۹)۔پھر اس خطرناک فوجداری مقدمہ میں حسن ظن کیا؟ مسجد میں غالباً پر جوش مسلمان جاتے ہیں آپ کو تجربہ نہیں۔ہمارے دوست ایسے مقامات میں قتل ہو چکے ہیں ان کے اموال چھینے گئے ان کی بیبیاں علماء کے فتویٰ سے لی گئیں پھر ایک تجربہ کار کس طرح قوم کو ہلاکت کے منہ میں بھیج دے۔