ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 99
میں نے بارہا غیراحمدیوں سے اثناء گفتگو میں کہا ہے مرزا بھی ربّ کی طرف سے بھیجا ہوا تھا۔مرزا بھی اپنے ربّ سے غیب کی خبر پا کر لوگوں پر ظاہر کرتا تھا تو سب نے تسلیم کیا اور کچھ جوش ظاہر نہیں کیا حالانکہ رسول اور نبی کے بھی یہی معنے ہیں۔پس بات کرنے کا بھی ایک سلیقہ ہوتا ہے۔ (النحل: ۱۲۶) بہت سے لوگ بے وجہ ابتلاء میں ڈال دئیے جاتے ہیں وہ قابل رحم ہوتے ہیں اور ان پر رحم نہیں کیا جاتا۔سنی و شیعہ میں باعث تفرقہ بحث فضیلت کی بات بہت جلد حل ہو سکتی ہے مگر یہی وہ بحث ہے جس نے سنی و شیعہ میں کشت و خون تک نوبت پہنچائی بارہویں صدی تک سنی و شیعہ کی مسجد الگ نظر نہیں آتی مگر پھر آخر اسی بحث نے تفرقہ ڈالا اور یہ دونوں گروہ ایک دوسرے کے جانی دشمن ہو گئے۔ایک شیعہ کا مرزا صاحب کے شعر پر جوش ایک شیعہ حضرت صاحب کے اس شعر پر بڑا جوش میں آ رہا تھا۔کربلائے سْت سَیرِ ہر آنم صد حسین است در گریبانم میں نے اسے کہا اس کے یہ معنے ہیں کہ امام حسین کی کربلا اور تکالیف کا صبح سے ظہر تک فیصلہ ہو گیا مگر ( مرزا صاحب فرماتے ہیں ) میں ایسا مظلوم ہوں کہ ہر وقت میرے لئے کربلا کا میدان ہے۔وہاں تو ایک دو گھنٹہ میں فیصلہ ہو گیا تھا اور یہاں سینکڑوں دن گزر گئے ہیں رو ز مجھے ذبح کرتے ہیں کیا کوئی سو حسین میرے گربیان میں پنہاں تھا۔بے اختیار اس نے کہا یہ توسچ کہا آپ نے۔مرزا صا حب کا ذکر بولنے میں عقلمندی کی بہت ضرورت ہے۔میں سیالکوٹ گیا میری عادت ہے کہ جو قرآن کی آیت میں مضمون ہو اسی کو بیان کیا کرتا ہوں۔اب اگر اس میں مرزا کا ذکر نہ آیا تو میں خواہ مخواہ کھینچ تان کے کہاں سے لاتا۔اس پر بعض لوگوں کو برا معلوم ہوا کہ اتنی دیر وعظ کیا اور مرزا کا ذکر