ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 100 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 100

تک نہیں کیا گویا وہ چاہتا ہے کہ ساری دنیا کو راضی کر لے۔یہ بات صرف انہی سے مخصوص نہ تھی بلکہ صوفیاء، فقہاء، اہلحدیث سب کو میں نے دیکھا کہ جب ان کے ذوق کا ذکر نہ آئے تو وہ کبیدہ خاطر ہوجاتے ہیں۔ادھر کشمیر کی طرف قاعدہ ہے کہ اگر خطبہ میں سید عبدالقادر جیلانی کا ذکر نہ آئے تو اس خطیب کو بے ایمان سمجھ کرسب چلے جاتے ہیں۔وہ پیر گیلانی کے یہاں تک معتقد ہیں کہ چائے کی پیالیاں بھی بارہ نہیں گیار ہ رکھتے ہیں کشمیر میں بارہ دری کوئی نہیں۔قرآن مجید میں ایسے لوگوں کا ذکر آیا ہے کہ(الزمر:۴۶) جن میں آخرت کا ایمان نہیں ہوتا وہ لوگ صرف توحید کے ذکر پر بھڑک اٹھتے ہیں۔غرض ایسی بحثوں کو لچر سمجھتا ہوں۔اسے چاہیے کہ بہت بہت دعا کرے تا خدا کوئی ایسی راہ سمجھادے جس سے اپنے مخالف کو نرمی کے رنگ میں سمجھا سکے۔(البدر جلد ۸نمبر۲۶مورخہ ۲۲؍اپریل ۱۹۰۹ء صفحہ ۵) مکتوب الامام ایک شخص نے لکھا کہ میرے ایک دوست بابو صاحب حضرت مسیح موعود کے حق میں اپنا یہ اعتقاد ظاہر کرتے ہیں کہ’’ ہم ان کو بزرگ اور ولی اللہ سمجھتے ہیں لیکن اُن کے دعاوی کے متعلق ابھی پورے طور پر ہمارے دل نے کھول کر گواہی نہیں دی۔‘‘اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم تم کو برا نہیں جانتے اور تمہارے پیچھے نماز پڑھتے ہیں تو تم ہمارے پیچھے کیوں نماز نہیں پڑھتے۔بابو صاحب اُن تمام مولویوں کو جو مسیح موعود کو کافر خیال کرتے ہیں غلطی پر سمجھتے ہیں۔حضور کا نماز کے لئے کیا حکم ہے۔حضور امیر علیہ السلام نے اس کا مندرجہ ذیل جواب تحریر فرمایا۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ(العنکبوت:۶۹) اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اللہ تعالیٰ پر افترا باندھے۔زانی، شراب خور، بدکار ، ڈاکو سب اس