ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 98
مگر یہ تعلق ایسا مخفی راز ہے کہ سوا اس ذات باری تعالیٰ کے اور کسی کو معلوم نہیں۔پس اس امر کی نسبت بحث ہی فضول ہے۔نبی اور رسول حضرت صاحب مامور تھے اور ان کو تو حکم الٰہی سے بولنا پڑتا تھا۔نبی یا رسول عربی معنے کے لحاظ سے بہت ہی آسان لفظ تھا مگر ہمارے ملک کے لوگوں نے اس کے کچھ ایسے پیچیدہ معنے سمجھے ہیں کہ بہت سی مشکلات میں پڑ گئے ہیں کوئی کسی چوہڑے کو کام کے لئے بھیجتا ہے تو اس وقت بھی کہتے ہیں یہ اس کا رسول ہے۔پس اس لفظی نزاع کا فائدہ کیا ہے؟ دیکھو ایک تنکا بھی شئے ہے اور خدا بھی شئے۔تو کیا تنکا اور خدا برابر ہو گئے۔یا کُلُّ شَیْئٍ ھَالِکٌ کا حکم اس پر بھی وارد ہو گیا ہرگز نہیں۔پس اسی طرح کوئی نبی یا رسول کہلانے سے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے برابر نہیں ہو سکتا۔میرا اعتقاد حضرت نبی کریم کی نسبت وہی ہے جو درس میں بعض وقت بے اختیار کہہ دیا کرتا ہوں کہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی کامل انسان آپ کی مثل پیدا ہو۔مسیح ؑ اور موسیٰ بھی رسول تھے مگر محمد رسول اللہ کے مقابلہ میں کیا حقیقت رکھتے ہیں۔تمام مذہبوں کا مشترک مسئلہ دعا ہے۔تیرہ سو برس سے اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ کی دعا ہو رہی ہے جو کسی نبی کو نصیب نہیں ہوئی۔پس ان کے مدارج میں کس قدر ترقی ہوئی ہو گی۔میں ایک دفعہ لاہور بیٹھا تھا۔ایک صاحب نے مجھے کہا ہم تم پر ناراض ہیں۔میں نے کہا کہ خدا ناراض نہ ہو آدمی کی ناراضی کیا نقصان پہنچا سکتی ہے۔کہا تم نے اپنے پیر کی بے ادبی کی کہ اسے عیسیٰ بنایا۔عیسیٰ کیا ہے جسے یہودیوں نے پکڑ کر سولی دے دیا۔دیکھو ہم اپنے پیر کا کس قدر ادب کرتے ہیں کہ اسے خدا سمجھتے ہیں۔یہ بات لاہوریوں نے سنی اور کچھ چون و چرا نہ کی۔اس پر اس نے کہا کہ دیکھا پیروں کے ادب کرنے کی برکت اور اس کا فائدہ تم نے مرزا کی تحقیر کی کہ اسے عیسیٰ کہا تو لوگ ناراض ہوئے۔ہم نے اپنے پیر کا ادب کیا خد اتک کہا اور لوگ ناراض نہ ہوئے۔دعوت الی اللہ کا ڈھنگ اصل بات یہ ہے کہ بات کرنے کا ایک ڈھنگ ہوتا ہے ہمارے بعض دوست بات کو ایسی ترکیب سے بیان کرتے ہیں کہ خوامخواہ جہال کو جوش آتا ہے اور لڑائی ہو جاتی ہے