ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 97
ساری الحمد فکروں کے ساتھ پڑھنی چاہئے۔باقی الحمد کے بارہ میں پھر لکھوں گا اس میں ذرا غور کر کے مجھے اطلاع بخشو۔والسلام نور الدین ۲۶؍ مگھر ازجموں ( ا لحکم جلد۶نمبر۸، مورخہ ۲۸؍ فروری ۱۹۰۲ء صفحہ ۲) مکتوبات حکیم الامت ذیل میں جوخط درج کیاجاتا ہے اس سے مولانا ممدوح کی اس محبت کا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک کلام سے آپ کو ہے پتہ لگتا ہے۔ان خطوط پر ہم بعد میں انشاء اللہ ایک ریویو کریں گے۔(ایڈیٹر الحکم) قربانت شوم و بلا گردانت میرے پیارے پھر نہایت ہی پیارے محب صمیم و با وفا حَفِظَکَ اللّٰہُ وَسَلَّمَ۔موجب سرور فرحت نامہ مورخہ ۲۹؍جون ۴؍جولائی کو پہنچا۔جَزَاکَ اللّٰہُ اے وقت تو خوش کہ وقت ما خوش کردی۔پیارے میں تمہارے ان ہاتھوں کو چوم لوں جن ہاتھوں سے تم نے حدیث کی کتاب کے واسطے تاکید کی یا اس قلم کو جس قلم سے لکھا۔راقم تمہارا دلی دوست آپ کی پیاری اور نہایت عمدہ فرمایش کو بھولنے والا نہیں تھا اِلاّ اس قسم کی کتابیں میرے لختِ جگر ثلج کبدبجز بھوپال کے نہیں مل سکتیں اور میں اس وقت سری نگر ملک کشمیر میں ہوں جہاں نام و نشان ان کتابوں کا نہیں۔آپ تسلی فرماویں۔انشاء اللہ تعالیٰ آپ کو جلد تر پہنچا دوں گا۔قلمدان یا پٹو جس قسم کا مطلوب ہو اس سے اطلاع بخشیں۔زیادہ شوق دیدار فرحت آثار۔خاکسار نور الدین از سرینگر ملک کشمیر ۲۶؍ہاڑ گزارش۔نماز باجماعت اور مخلوقات باری سے محبت و پیار اور لوگوں کی خیر خواہی، اسباب زنا سے کلّی اجتناب، صحت و عافیت اور زندگی کی قدر میں اللہ اور اس کے رسول کی کتاب۔تاکید ہے ہر دم یاد رہے۔( الحکم جلد۶ نمبر۹ مورخہ ۱۰؍ مارچ ۱۹۰۲ء صفحہ۲)