ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 96 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 96

خرمن کو آگ لگ جاتی ہے اور گناہ کی شامت وہ خرمن خاکسترکا انبار ہو جاتا ہے۔اسی کا رحم ہو کہ معاصی عفو ہو جاویں اور اس خرمن سے ہم نفع اٹھاویں۔پس ضرور ہوا کہ میں ذات باری پر اعتماد رہے۔اب دیکھو اس کا یہ مطلب ہے کہ کوئی کام اس دنیا میں بدوں کسی سبب کے نہیں ہوتا۔ظاہری اندھیرے کے لئے سورج، چاند، چراغ، برق وغیرہ کی روشنی چاہیے۔سینے کو سوئی، سرما کے واسطے گرم کپڑا ،آگ چاہیے۔دوسرے دوست کے مطالب سمجھنے کو خط وکتابت پیغام چاہئے۔دریا سے پار اترنے کو کشتی چا ہئے، شنائی تلہ وغیرہ چاہئے۔پیاس کے دور کرنے کو پانی، بھوک کے لئے غذا،جلد پہنچنے کو ریل ،جلد خط بھیجنے کو تار کی خبر۔اسی طرح دیکھتے جائوکوئی کام بدوں سبب نہیں۔جن کاموں کو آپ بدوں سبب جانتے ہو وہ بھی حقیقت میں سبب کے ساتھ پیوستہ ہیں۔سے یہ مطلب ہے کہ الٰہی کوئی کام بدون سبب واقعی نہیں ہوا کرتا اور ہم کو کاموں کے اسباب ٹھیک ٹھیک معلوم نہیں۔اس لئے ہمارے کام نہیں ہو تے۔اگر بیماری کی صحت کا ٹھیک سبب معلوم ہوتو ہمارے بیمار کیوںبیمار رہیں؟ اور اگر دفع افلاس کے واقعی اسباب معلوم ہوں تو ہم کیوں مفلس رہیں؟عزت کے اسباب دریافت ہو جاویں تو جلد تر ذی عزت ہورہیں۔ذلت کے اسباب معلوم ہوں تو ان سے بچیں اور ذلیل نہ ہوں۔پادشاہ ہو جانے کے اسباب دریافت ہوں تو پادشاہ بنیں۔غرض ہروقت ہر آن میں ہم کو ضرورہے کہ خدا وند کریم کی درگاہ میں سوال کرتے رہیںکہ الٰہی فلانے کام میں سبب حقیقی کی رہنمائی فرما، فلانے میں رہنمائی کر ، فلانے میں رہنمائی عطاکر۔اگر ہر وقت کاموں کی ضرورت ہے تو ہر وقت کی ضرورت بھی لگی ہوئی ہے۔ہر صبح نماز کے بعد کئی بار اسی طرح کیا۔